International

قاسم سلیمانی سے ابراہیم رئیسی تک، 4 سال میں ایران کو ملے 4 گہرے زخم

80views

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نہیں رہے۔ ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ان کی موت سے متعلق تصدیق ہو گئی۔ ان کی عمر 63 سال تھی۔ اس حادثے میں صرف ابراہیم رئیسی کی ہی موت نہیں ہوئی بلکہ ان کے علاوہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور کئی اہم و طاقتور افراد کی جان بھی چلی گئی۔ ایران کے طاقتور ترین شخص آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی 85 برس کے ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ملک کی قیادت کے لیے ایک لائق، قابل اعتماد شخص کی تلاش بہت اہم اور مشکل امر ہوگا۔ کسی ملک کے لیے اس کے صدر کی بے وقت موت کسی صدمے سے ہرگز کم نہیں ہے۔

گزشتہ چار برسوں میں ایران کو یکے بعد دیگرے ایسے کئی گہرے زخم ملے ہیں۔ اس کی شروعات جنرل قاسم سلیمانی کی موت سے ہوتی ہے جو ایرانی عوام کے لیے ایک ہیرو سمجھے جاتے تھے۔ قاسم سلیمانی کی موت 2020 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہوئی تھی۔

پہلازخم: جنرل قاسم سلیمانی کی موت

قاسم سلیمانی ایران کے دوسرے طاقتور ترین شخص تھے۔ قاسم سلیمانی قدس فورس نامی فوجی دستے کے انچارج تھے۔ قدس فورس ایران کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بیرونی ممالک میں فوجی آپریشن انجام دیا کرتی ہے۔ سلیمانی 1998 سے 2020 تک اس کے سربراہ رہے۔ سلیمانی نے افغانستان میں امریکی حملے کے دوران ایران اور طالبان کے درمیان مصالحت کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس کے علاوہ سلیمانی نے دوسرے انتفاضہ اور 2006 کی لبنان جنگ کے دوران ایران کے مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کئی اہم فیصلے لیے تھے۔ سلیمانی پر کئی بم دھماکوں اور خانہ جنگی کو ہوا دینے کا بھی الزام تھا۔ سلیمانی کی کارروائیوں کو امریکہ اور سعودی عرب کے مفادات کے خلاف دیکھا گیا۔ امریکہ نے سلیمانی کو دہشت گرد ماننا شروع کردیا اور پھر 2020 میں اس نے ایک ڈرون حملے سے سلیمانی کو قتل کر دیا۔

ایران کے لیے قاسم سلیمانی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کا جنازہ نکلا تو اس میں شامل ہونے کے لیے ایران کی ایک بڑی آبادی سڑکوں پر آگئی۔ بھیڑ اتنی تھی کہ بھگدڑ مچ گئی جس میں تقریباً 56 لوگوں کی جان چلی گئی تھی اور 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ سلیمانی کے قتل کے بعد بھی ان کی برسی پر ایران میں حالات خراب ہوتے رہے۔

دوسرا زخم: قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر دھماکے

اسی سال یعنی 2024 کے آغاز میں ایران کے شہر کرمان میں جنرل قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی کے موقع پر جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں بہت بڑی تعاد میں لوگ شریک ہوئے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس تعزیتی اجلاس میں لاشوں کا ڈھیر لگنے والا ہے۔ اس پروگرام میں دو دھماکے ہوئے جس میں 100 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 170 کے قریب افراد زخمی ہوگئے۔ دونوں دھماکے دس منٹ کے وقفے سے ہوئے تھے۔ ایران کے نائب گورنر نے اسے دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔ دھماکے کے بعد ایران کے وزیر دفاع نے اس میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی بات کی مگر بعد میں ایک دہشت گرد تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی۔

تیسرا زخم: شام میں ایران کے سفارت خانے پر حملہ

اسی سال اپریل میں شام کے دارالحکومت دمشق میں ایران کے سفارت خانے پر حملہ ہوا۔ کسی ملک کے سفارت خانے پر حملہ براہ راست اس ملک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ اسرائیل نے کیا ہے لیکن اسرائیل مسلسل اس کی تردید کرتا رہا۔ بالآخر ایران نے اسرائیل پر زور دار حملہ کردیا۔ اسرائیل نے ایران کے کچھ ڈرون حملوں کو ناکام تو بنا دیا لیکن ایران مطمئن تھا کہ اس نے اسرائیل کے سامنے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔ ایران اور اسرائیل کبھی ایک دوسرے کے شراکت دار تھے لیکن 80 کی دہائی کے بعد سے دونوں کے تعلقات خراب ہونے لگے۔

چوتھا زخم: نیوکلیئر سائنسدان کا قتل

ایران کے جوہری پروگرام پر بھی دنیا منقسم ہے۔ ایران اسے اپنے لیے بہت اہم سمجھتا ہے مگر اسرائیل اور امریکہ اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ ایسے میں چار سال قبل 2020 میں ایران کے چیف نیوکلیئر سائنسدان محسن فخری زادہ کا قتل ایران کے لیے بڑا زخم تھا۔ انہیں 29 نومبر کو دارالحکومت تہران کی ایک شاہراہ پر قتل کر دیا گیا تھا۔ محسن فخری زادہ بہت لو پروفائل رہتے تھے اور ان کو ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے لیے خاص طور سے سراہا جاتا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق فخری زادہ ’مجاہدین خلق‘ نام کے ایک  دہشت گرد تنظیم کے حملے کا نشانہ بنے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کی اشارے پر ہوا تھا۔ فخری زادہ کو قتل کرنے سے پہلے ان کی شناخت آرٹیفشیل انٹلی جینس (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے کی گئی تھی۔

ایک کے بعد ایک صدمے کا سامنا کرنے والے ایران کے لیے اب اس کے صدر کی بے وقت موت سے سینکڑوں سوالات کا پیدا ہونا لازمی ہے۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.