International

یوکرین جنگ: ’ہتھیار ڈالنے کی علامت‘ سے متعلق پوپ کا بیان جرمنی کے لیے ناگوار

39views

پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرنے اور ’سفید پرچم اٹھانے کی ہمت ہونی چاہیے۔‘ ماسکو نے پوپ کے ان بیانات کو ’مذاکرات کا ایک موقع‘ قرار دیا ہے، جبکہ جرمنی نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا ہے۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ اور جرمنی کے اعلیٰ ترین سیاستدانوں نے یوکرین جنگ سے متعلق پوپ فرانسس کے حالیہ اس بیان پر شدید نکتہ چینی کی ہے، جس میں انہوں نے یوکرین سے روس کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کیتھولک مسیحییوں کے روحانی پیشوا، پاپائے روم پوپ فرانسس نے گزشتہ ماہ ریکارڈ کیے گئے ایک انٹرویو میں یوکرین کی جنگ کے تناظر میں کہا تھا،’’سب سے مضبوط وہ ہے جو حالات کو دیکھتا ہے، لوگوں کے بارے میں سوچتا ہے اور سفید جھنڈے کی ہمت رکھتا ہے، اور مذاکرات کرتا ہے۔‘‘ پوپ نے یہ بیانات روس اور یوکرین کی اُس جنگ کے حوالے سے دیے جو اب اپنے تیسرے سال میں ہے۔

سی اے اے : متنازعہ قانون کا نفاذ، مسلمانوں کا سخت رد عمل

پوپ نے یہ بیانات سوئس براڈکاسٹر آر ایس آئی کے ساتھ انٹرویو میں دیے تھے جو آئندہ ہفتے نشر ہونے والا ہے۔ دریں اثناء خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس انٹرویو کے ایک حصے کو تحریری شکل میں جاری کیا ۔ اس میں پوپ کے مذکورہ بیانات پر نکتہ چینی ہو رہی ہے۔ خاص طور پر جرمن چانسلر اور جرمنی کی وزیر خارجہ نے پوپ فرانسس کے بیانات سے اتفاق نہ کرنے کا کھلا اظہار کیا ہے۔

روایتی طور پر سفید پرچم اٹھانے سے مراد میدان جنگ میں ہتھیار ڈالنے کی علامت ہوتی ہے۔ پوپ کے بیانات پر نکتہ چینی کے بعد ویٹیکن کے ایک ترجمان نے کہا کہ پوپ فرانسس مذاکرات کے ذریعے لڑائی ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں ’’سر نگوں کرنے کی‘‘ نہیں۔

جرمن رہنماؤں کی پوپ پر تنقید

جرمن حکومت کے ایک ترجمان اشٹیفن ہیبے اشٹرائٹ نے کہا کہ چانسلر اولاف شولس پوپ کے بیانات سے ’’اتفاق نہیں کرتے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’سچائی یہ ہے کہ یوکرین ایک جارح کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے۔‘‘ جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا، ’’ہم پہلے بھی اس پر بات کر چکے ہیں اور یہ بھی بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہے کہ ایسی جارحانہ جنگ کے خلاف اپنا دفاع کیا جائے، جس سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ ہم اور بہت سے دوسرے ممالک کے ساتھ اس معاملے میں یوکرین کی حمایت کر رہے ہیں۔‘‘

اُدھر جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک نے بھی جنگ سے متعلق پوپ فرانسس کے تبصرے پر تنقید کی اور جرمن ميڈیا ادارے اے آر ڈی کے ساتھ ایک ٹاک شو کے دوران انہوں نے پوپ کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’مجھے تو یہ سمجھ میں نہیں آیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا،’’میرے خیال میں کچھ چیزیں آپ صرف اسی صورت میں سمجھ سکتے ہیں، جب آپ انہیں خود دیکھیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کییف اور اس کے اتحادیوں نے ’’اس وقت اپنی طاقت نہیں دکھائی تو امن نہیں ہو گا۔‘‘

’ہتھیار ڈالنے کے بارے میں بات کرنے کا یہ وقت نہیں‘

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ ایسے مذاکرات جو یوکرین کی خود مختاری اور اس کی آزادی کے ضامن ہوں، اُس وقت ہی ہو سکیں گے جب پوٹن کو یہ احساس ہو گا کہ وہ میدان جنگ میں جیت نہیں سکتے۔ انہوں نے برسلز میں نیٹو ہیڈ کوارٹر میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ہم مذاکرات کے ذریعے پرامن اور دیرپا حل چاہتے ہیں، تو وہاں تک پہنچنے کا طریقہ یوکرین کو فوجی مدد فراہم کرنا ہی ہے۔‘‘

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فی الجال سفید جھنڈے کے بارے میں بات کرنے کا وقت نہیں ہے، تو انہوں نے کہا، ’’یہ یوکرائنیوں کے ہتھیار ڈالنے کے بارے میں بات کرنے کا وقت نہیں ہے۔ یہ یوکرینی لوگوں کے لیے ایک المیہ ہو گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ ہم سب کے لیے بھی خطرناک ہو گا۔ کیونکہ اس صورت میں ماسکو یہ سبق سیکھے گا کہ جب وہ فوجی طاقت کا استعمال کرتا ہے، ہزاروں لوگوں کو مارتا ہے اور جب وہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کرتا ہے، تو وہ اپنا ہدف حاصل کر لیتا ہے۔‘‘

یوکرین نے ویٹیکن کے ایلچی کو طلب کر لیا

ادھر پوپ فرانسس کے بیانات کے بعد یوکرین نے ویٹیکن کے ایلچی کو طلب کیا اور وزارت خارجہ نے کہا کہ کییف کو ان کے تبصروں سے ’’مایوسی‘‘ ہوئی ہے۔ یوکرینی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا،’’کیتھولک مسیحییوں کے پیشوا سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ اشارہ کریں کہ وہ فوری طور پر ان فورسز میں شامل ہو، جو برائی پر اچھائی کی فتح کو یقینی بنا سکے۔ اس کے ساتھ ہی حملہ آور سے اپیل کی جائے، نہ کہ اس سے جو اس کا شکار ہو۔‘‘

پوپ کے بیان پر روس کا رد عمل

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ماسکو یوکرین جنگ سے متعلق پوپ فرانسس کے تبصرے کو مذاکرات کی درخواست کے طور پر دیکھتا ہے۔ پیسکوف نے کہا کہ روسی رہنما ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کے ساتھ بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے اور یہی ’’ترجیحی راستہ بھی ہے۔‘‘ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا،’’یہ بات کافی قابل فہم ہے کہ انہوں (پوپ) نے مذاکرات کے حق میں بات کی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک امن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ’’بدقسمتی سے، پوپ کے بیانات اور ہماری جماعت سمیت دیگر حلقوں کے ایسے متعدد بیانات کو حال ہی میں بہت ہی سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔‘‘ پیسکوف نے کہا کہ روس کو دفاعی ’’حکمت عملی میں شکست ‘‘ سے دو چار کرنے کی مغربی ممالک کی اُمیدیں ’’سب سے گہری غلط فہمی‘‘ تھی۔ انہوں نے مزید کہا، ’’بنیادی طور پر میدان جنگ میں ہونے والے واقعات بھی اس کا واضح ثبوت ہیں۔‘‘

Follow us on Google News