International

افغانستان میں تباہ کن سیلاب

70views

گزشتہ ہفتے شمالی افغانستان میں تباہی پھیلانے والے سیلاب میں کم از کم تین سو افراد ہلاک ہو گئے ۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے ایکس (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا کہ افغانستان میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، صوبہ بغلان میں تین سو سے زائد افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ یہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران غیر معمولی شدید بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلابوں میں سے ایک ہے۔ ڈبلیو ایف پی اب زندہ بچ جانے والوں میں خوراک تقسیم کر رہا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی ایجنسی انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے ایک بیان میں کہا کہ بدخشاں، غور، بغلان اور ہرات کے صوبوں میں شدید سیلاب آیا ہے، جس سے تقریباً دو ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) افغانستان کے سات صوبوں میں پھیلے اس سیلاب میں پھنسے ہزاروں لوگوں کے لیے ہنگامی امداد فراہم کر رہی ہے۔ آئی آر سی افغانستان کی ڈائریکٹر سلمیٰ بن عیسٰی کے مطابق، افغانستان ابھی تک اس سال کے آغاز میں آنے والے زلزلوں کے ساتھ ساتھ مارچ میں آنے والے شدید سیلاب سے دوچار ہے، اور اب تازہ ترین سیلابوں نے ملک میں ایک بڑی انسانی ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے ۔ لوگوں نے پورے خاندان کھو دیے ہیں، جبکہ ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہے۔

مقامی اسکول کے ہیڈ ماسٹر برکت اللہ نے سی این این کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں جب بغلان کے بلکا ضلع اور آس پاس کے علاقوں میں تیز ہوا چلی تو ہر چیز کو تاریکی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، ایسا محسوس ہوا جیسے کچھ ناگوار ہونے والا ہے۔ مرئیت اتنی کم تھی کہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ پھر جمعہ کی نماز کے دوران بارش شروع ہو گئی – مقامی لوگوں کے لیے یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ ان کے مطابق پہاڑی علاقے میں اکثر اتنی زیادہ بارش نہیں ہوتی۔ یہاں تقریباً 10 ہزار لوگ رہتے ہیں۔ جیسے جیسے بارش تیز ہوئی، اچانک صورتحال سنگین ہو گئی۔ لوگ پہاڑوں اور پہاڑیوں میں پناہ ڈھونڈتے ہوئے اونچی زمین کی طرف بھاگ گئے۔ بدقسمتی سے، کچھ لوگ جو اپنے گھر چھوڑنے سے قاصر تھے سیلاب کے پانی کا شکار ہو گئے۔

سیو دی چلڈرن نے ایک بیان میں کہا کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے 6 لاکھ لوگوں میں سے نصف سے زیادہ بچے ہیں۔ وہ بچوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے موبائل ہیلتھ اور چائلڈ پروٹیکشن ٹیموں کے ساتھ ایک ’کلینک آن وہیل‘ بھیج رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ذریعے حاصل کی گئی ویڈیو میں سوگواروں کو بغلان صوبے میں میت کو دفن کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ گلبدین نامی ایک شخص نے اپنے خاندان کے پانچ افراد، دو بیٹے، دو بیٹیاں اور ان کی والدہ کو اس تباہ کن سیلاب میں کھو دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سیلاب کے دوسری طرف کھڑے تھے، لیکن اپنے خاندان کی مدد نہ کر سکے، اور آخرکار سیلاب نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ صوبہ بغلان کے گاؤں لقائی کے رہائشی اپنے گھروں کے باہر اس کیچڑ کو صاف کر رہے ہیں جس نے ان کے مکانات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔

افغانستان میں حکمراں طالبان نے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والے شدید نقصان کا اعتراف کیا۔ مجاہد نے کہا، ’ افسوس کے ساتھ، ہمارے سینکڑوں ساتھی شہری ان تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے دم توڑ چکے ہیں، جب کہ کافی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ مزید برآں، سیلاب نے رہائشی املاک پر بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں کافی مالی نقصان ہوا ہے‘۔ مجاہد نے مزید کہا کہ طالبان نے وزارت داخلہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی وزارت اور مقامی حکام کو پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے، لاشوں کو نکالنے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کا کام سونپا ہے۔

خشک سالی اور بھوک سے سیلاب تک

افغانستان میں طوفانی سیلاب نے خطے میں حالیہ قدرتی آفات کے سلسلے میں اضافہ کیا ہے ۔ حکام کے مطابق، اپریل میں غیر موسمی بارشوں اور سیلاب سے افغانستان اور پاکستان میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ سال جولائی میں افغانستان میں سیلاب درجنوں کو بہا لے گیا تھا، اور اکتوبر میں افغانستان کے مغربی حصے میں آنے والے 6.3 شدت کے زلزلے سے ہزاروں لوگ مارے گئے تھے۔

گزشتہ ہفتے آیا سیلاب افغانستان میں ایک ایسے علاقے میں جانوروں اور کھیتوں کو بہا لے گیا جو پہلے ہی خوراک کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ سیلاب کی زد میں آنے والے علاقے سخت گرمی کے بعد آئی خشک سالی سے پہلے ہی غذائی قلت کے خطرے سے دوچار تھے ۔ ڈبلیو ایف پی کے سربراہ ٹموتھی اینڈرسن کے مطابق، صورتحال پہلے ہی کافی سنگین تھی اور اب یہ تباہ کن ہے۔ حالانکہ مقامی لوگ اچانک سیلاب دیکھنے کی توقع رکھتے ہیں، لیکن اس سال، یہ بہت بدتر رہا ہے۔ زندہ بچ جانے والوں کے لیے، جو پہلے ہی غریب ترین لوگوں میں شامل تھے، ان کے گھروں اور ان کی زمین کا نقصان اور مویشی کھو دینا تباہ کن ہے کیونکہ یہی تو ان کا ذریعہ معاش ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں تک سڑکوں کی رسائی سیلابی پانی کی وجہ سے کٹ گئی ہے، جس کی وجہ سے ڈبلیو ایف پی کو سامان بھیجنے کے لیے گدھوں کا استعمال کرنا پڑا۔ پہلے دن ، ڈبلیو ایف پی نے بچوں میں ہائی انرجی بسکٹ اور کھانا تقسیم کیا تھا۔ وہ مفت روٹی کی فراہمی کے لیے مقامی بیکریوں کی بھی مدد کر رہے ہیں۔ اگلے دنوں میں، ٹیمیں ایک ماہ کے لیے خاندانوں میں کھانا تقسیم کرنا شروع کر دیں گی – آگے کیا ہوگا یہ واضح نہیں ہے۔ اینڈرسن کے مطابق، اقوام متحدہ کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ 17 مشترکہ تشخیصی ٹیمیں علاقے میں بھیجی جا رہی ہیں۔ ان ٹیموں کو سیلاب زدہ لوگوں اور ان کی رہائش اور بنیادی ڈھانچے پر پڑنے والے اثرات کا صحیح طریقے سے جائزہ لینے میں چار یا پانچ دن لگیں گے۔

سیلاب کی شکل میں تازہ ترین قدرتی آفت افغانستان میں خشک سالی کے بعد آئی ہے، اور اسے موسمیاتی بحران کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ان ممالک کو متاثر کر رہا ہے جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے لیے کم سے کم ذمہ دار ہیں۔ وہ کاربن کے خالص اخراج کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ایک زرعی معاشرہ ہیں۔ لیکن وہ اس کا نقصان برداشت کر رہے ہیں ۔ حالیہ خشک مہینوں کے دوران، فصلوں کو برقرار رکھنے کے لیے ڈیموں اور آبپاشی کی نہروں میں بارش کا پانی حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن وہ کوششیں بیکار گئیں اور اب ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔

اینڈرسن کے مطابق ضرورت صرف افغانستان میں نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ دنیا بہت بڑے، زیادہ شدید واقعات کے اثرات دیکھ رہی ہے، چاہے وہ خشک سالی ہویا بارشوں کا طوفان ۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ کے مطابق حالیہ سیلاب افغانستان میں آب و ہوا کے بحران کے خطرے کی واضح یاد دہانی کراتا ہے۔ دوسری جانب ایکشن ایڈ انٹرنیشنل میں گلوبل کلائمیٹ جسٹس لیڈ، ٹریسا اینڈرسن نے کہا کہ آب و ہوا کا بحران بدستور اپنے سر پر کھڑا ہے۔ تازہ ترین واقعے کے ساتھ، افغانستان اس سال سیلاب سے نبرد آزما عالمی جنوبی ممالک کی ایک طویل فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

Follow us on Google News