International

جرمنی میں جوڑے بچے پیدا کرنے سے گریزاں کیوں؟

53views

جرمنی میں شرح پیدائش 2009ء کے بعد اپنی کم ترین سطح پرپہنچ چکی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کورونا کی عالمی وبا کے اثرات، جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال اورموسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لوگ والدین بننے سے کترا رہے ہیں۔جرمنی کے فیڈرل انسٹی ٹیوٹ فار پاپولیشن ریسرچ BiB نے بدھ کے روز کہا کہ 2023 میں بچوں کی شرح پیدائش میں واضح کمی نوٹ کی گئی ہے، جو 2009 کے بعد سب سے کم سطح پر ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مصنفین کو شبہ ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد کے اثرات، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اورموسمیاتی تبدیلیوں کے خدشات ان وجوہات میں شامل ہو سکتے ہیں، جن کی وجہ سے لوگ والدین بننے کی منصوبہ بندی میں تاخیرکر رہے ہیں یا اس حوالے سے اپنا ارادہ ترک کر رہے ہیں۔

یورپ کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک شرح پیدائش 2021ء میں فی عورت 1.57 بچوں سے گھٹ کر 2023 کے موسم خزاں میں تقریباً 1.36 رہ گئی۔ BiB نے دوسالوں کے اندرشرح پیدائش میں اس تیزی سے کمی کو “غیر معمولی” قراردیا ہے کیونکہ ماضی میں شرح پیدائش میں کمی آنے میں زیادہ وقت لگتا تھا۔” اس رپورٹ کے مطابق متعدد بحران جیسے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا، یوکرین میں جنگ، افراط زر اور موسمیاتی چیلنجزاس کمی کی ممکنہ وجوہات ہیں ۔

BiB کی تحققیق کے شریک مصنف مارٹن بوجارڈ نے وضاحت کی۔ “متعدد بحرانوں کے اس دور میں بہت سے لوگوں کوتو بچے پیدا کرنے کی خواہش کا احساس ہی نہیں ہوتا۔” BiB کے مطابق وبائی مرض کے ابتدائی دورمیں جرمنی میں شرح پیدائش مستحکم رہی لیکن وبائی مرض کے بڑھتے وقت یہ 1.4 تک گر گئی۔

مصنفین کا خیال ہے کہ یہ ممکن ہے کہ بہت سی خواتین نے ابتدائی طور پر بچہ پیدا کرنے کا ارادہ اس لیے ترک کیا ہوتاکہ انہیں ویکسین لگائی جا سکے کیونکہ اس وقت تک حاملہ خواتین کو ویکسین لگانے کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔2022 کے وسط میں شرح پیدائش پھر سے بحال ہوئی لیکن 2023 کے موسم خزاں تک بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کے باعث شرح پیدائش میں تیزی سے کمی واقع ہوگئی۔

گرتی ہوئی شرح پیدائش کے اثرات کتنے اہم؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں ہو سکا کہ نئے اعداد و شمار کس حد تک شرح پیدائش میں کمی یا محض ایک عارضی اثر کی طرف عمومی رجحان ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم مسلسل کم شرح پیدائش کے سبب جرمن معاشرے میں عمررسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا، اس طرح کا رجحان اگر برقرار رہتا ہے تو ایسے چیلنجز پیدا ہوسکتے ہیں، جس میں لیبر مارکیٹ میں ہنر مند کارکنوں کی تعداد میں ممکنہ کمی کا سامنا ایک بڑا چیلینج ہوگا۔

BiB کے مطابق مغربی جرمنی اور جرمنی میں شرح پیدائش 1975ء کے بعد چار دہائیوں تک فی عورت 1.2 سے 1.4 بچوں کے درمیان رہی جوایک طویل عرصے تک یورپ میں سب سے کم تھی۔ 2015 سے 2021 تک یہ نمایاں طور پر 1.5 سے 1.6 کی شرح کے ساتھ زیادہ رہی۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.