West Bengal

شیر اکبر اور شیرنی سیتا کے تنازعہ نے طول پکڑا، تریپورہ حکومت نے ایک افسر کو کیا معطل

شیر اکبر اور شیرنی سیتا کے تنازعہ نے طول پکڑا، تریپورہ حکومت نے ایک افسر کو کیا معطل
86views

مغربی بنگال کے چڑیا خانہ میں اکبر نامی شیر اور سیتا نامی شیرنی کو ایک ساتھ رکھنے سے متعلق شروع ہوئے تنازعہ نے طول پکڑ لیا ہے۔ ایک طرف اس تعلق سے عدالت میں سماعت کا معاملہ سامنے آیا ہے، تو دوسری طرف تریپورہ حکومت نے اپنے ایک افسر کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تریپورہ حکومت نے ریاست کے پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فوریسٹس (وائلڈ لائف اینڈ ایکوٹورزم) پربین لال اگروال کو معطل کر دیا ہے۔

Prabin Lal Agrawal, a 1994-batch IFS officer, was serving as #Tripura‘s chief wildlife warden who recorded the name as Sita & Akbar suspended from service pic.twitter.com/BumOfyWvkI

— Vijay Thottathil (@vijaythottathil) February 26, 2024

دراصل مغربی بنگال کے چڑیا خانہ میں پہنچنے سے پہلے اکبر اور سیتا تریپورہ میں تھے۔ یعنی تریپورہ سے دونوں شیر اور شیرنی کو مغربی بنگال کے چڑیا خانہ میں بھیجا گیا تھا۔ جب یہ خبر ہندوتوا تنظیم وی ایچ پی (وشو ہندو پریشد) کو ہوئی تو انھوں نے کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک شکایتی عرضی داخل کی۔ اس میں الزام عائد کیا گیا کہ شیر کا نام اکبر اور شیرنی کا نام سیتا ہونے سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اعتراض اس بات کو لے کر شدید تھا کہ دونوں کو ایک ساتھ رکھا گیا ہے۔

ہندوستان نے چوتھے ٹیسٹ میں انگلینڈ کو 5 وکٹ سے شکست دے کر سیریز پر کیا قبضہ، جوریل پلیئر آف دی میچ قرار

قابل ذکر ہے کہ اکبر اور سیتا 12 فروری کو تریپورہ کے سپاہی جلا چڑیا خانہ سے شمالی بنگال کے سلی گوڑی میں وائلڈ انیمل پارک پہنچائے گئے تھے۔ افسران کا دعویٰ ہے کہ جانوروں کا نام تریپورہ کے سپاہی جلا زولوجیکل پارک میں رکھا گیا تھا اور انھیں جانوروں کی اَدلا بدلی پروگرام کے تحت سلی گوڑی لایا گیا تھا۔ بعد ازاں شمالی بنگال وائلڈ انیملس پارک کے افسران جانوروں کا نام بدلنے پر غور کر رہے تھے۔

سڑک حادثات: آندھرا پردیش میں 4 اور اتر پردیش میں 6 افراد جاں بحق

اسی درمیان وی ایچ پی نے سرکٹ بنچ کے سامنے ایک عرضی داخل کی جس میں ناموں میں تبدیلی سے متعلق گزارش کی گئی۔ وی ایچ پی نے کہا کہ اس طرح کے نام رکھنے سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اس عرضی پر گزشتہ دنوں کلکتہ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی اور عدالت نے مغربی بنگال حکومت کو ان کے نام بدلنے کا حکم بھی جاری کر دیا تھا۔ ایک زبانی تبصرہ میں کلکتہ ہائی کورٹ کی جلپائی گوڑی سرکٹ بنچ نے کہا کہ تنازعہ کو روکنے کے لیے شیرنی اور شیر کا نام سیتا اور اکبر رکھنے کے فیصلہ سے بچنا چاہیے تھا۔ بنچ نے ساتھ ہی سفارش کی کہ مغربی بنگال چڑیا گھر اتھارٹی دانشمندانہ طریقے سے دونوں جانوروں کے نام بدلے۔

وزیر اعلیٰ شندے کو نائب وزیر اعلیٰ فڑنویس کی بات نہیں سننی چاہیے: منوج جرانگے پاٹل

عدالت میں ہوئی اس سماعت کے دوران مغربی بنگال حکومت کی طرف سے پیش ہوئے وکیل نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نام تریپورہ ریاست کی طرف سے رکھے گئے ہیں، جس سے بنگال کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس وضاحت کے بعد جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے کہا کہ ملک میں ایک بڑا طبقہ سیتا کی پوجا کرتا ہے، جبکہ اکبر ایک مغل بادشاہ تھے۔ ایسے میں ان جانوروں کے نام بدلے جانے چاہئیں۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.