National

عدلیہ پر ’مخصوص گروپ‘ کا دباؤ، فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش! 600 وکلا کا چیف جسٹس کو مکتوب

61views

ملک کے 600 سے زیادہ وکلاء بشمول سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے اور پنکی آنند نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے نام مکتوب تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک ’مخصوص گروپ‘ مبینہ طور پر ملک میں عدلیہ کو کمزور کرنے میں مصروف ہے!

ان وکلاء نے خط میں لکھا ہے کہ اس ’مخصوص گروپ‘ کا کام عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جن میں یا تو سیاستدان ملوث ہیں یا ان پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ان کی سرگرمیاں ملک کے جمہوری تانے بانے اور عدالتی عمل پر اعتماد کے لیے خطرہ ہیں۔

سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے کے علاوہ جن وکلاء نے سی جے آئی کو خط لکھا ان میں منن کمار مشرا، آدیش اگروال، چیتن متل، پنکی آنند، ہتیش جین، اجولا پوار، ادے ہولا، سوروپما چترویدی شامل ہیں۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ مخصوص گروہ کئی طریقوں سے عدلیہ کے کام کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے جس میں عدلیہ کے ’نام نہاد سنہری دور‘ کے بارے میں غلط بیانیہ پیش کرنے سے لے کر عدالتوں کی موجودہ کارگردگی اور عدالتوں پر عوام کے اعتماد کو کم کرنا بھی شامل ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یہ گروپ اپنے سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر عدالتی فیصلوں کی تعریف یا تنقید کرتا ہے۔ دراصل یہ گروہ ‘مائی وے یا ہائی وے’ کے نظریہ پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بنچ فکسنگ کا نظریہ بھی انہی نے وضع کیا تھا۔

وکلاء کا الزام ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ لیڈر کسی پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں اور پھر عدالت میں اس کا دفاع کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر عدالت کا فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق نہ ہو تو وہ عدالت کے اندر یا میڈیا کے ذریعے عدالت پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ واضح رہے اس گروپ نے بلقیس بانو معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.