واشنگٹن، 30 اپریل (یو این آئی) امریکی اخبار بلوم برگ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے پہلی بار ایران کے خلاف ہائپر سونک میزائل استعمال کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی فوج مبینہ طور پر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائپر سونک میزائل تعینات کرنے پر غور کر رہی ہے، تاکہ ایران کے اندر موجود بیلسٹک میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ بلومبرگ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک درخواست دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے میزائل لانچر ایسے مقامات پر منتقل کر دیے ہیں جو موجودہ ’’پریسیژن اسٹرائیک‘‘ میزائل کی پہنچ سے باہر ہیں، جب کہ یہ میزائل 300 میل سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اگر اس منصوبے کی منظوری دی جاتی ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ امریکہ کوئی ہائپر سونک میزائل عملی طور پر تعینات کرے گا، کیوں کہ یہ ہتھیار ابھی تک مکمل طور پر فعال قرار نہیں دیا گیا ہے۔امریکی فوج کا ’’لانگ رینج ہائپر سونک ویپن‘‘ جسے ’’ڈارک ایگل‘‘ کہا جاتا ہے، کی رینج 1,725 میل بتائی جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر ایسے اہداف کے خلاف بنایا گیا ہے جو ’’وقت کے لحاظ سے حساس اور سخت دفاعی نظام سے محفوظ‘‘ ہوں۔ لائبریری آف کانگریس کے مطابق اس میزائل کو طویل فاصلے پر درست حملوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ہر میزائل کی قیمت تقریباً 15 ملین ڈالر ہے اور کل تعداد 8 سے زیادہ نہیں ہے، جب کہ ایک بیٹری کی لاگت تقریباً 2.7 ارب ڈالر ہے۔ ڈارک ایگل میزائل گہرائی میں موجود بیلسٹک لانچرز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ میزائل تا حال مکمل آپریشنل نہیں ہیں، اس لیے منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، روس اور چین پہلے ہی اپنے ہائپر سونک نظام تعینات کر چکے ہیں۔یہ درخواست عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی گئی ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے ایک نازک جنگ بندی قائم ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کشیدگی دوبارہ بڑھانے کی دھمکی دیتے رہے ہیں، جب کہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
امریکہ نے ایران کے خلاف 15 ملین ڈالر کے ہائپر سونک میزائل ’ڈارک ایگل‘ کا استعمال اب تک کیوں نہیں کیا؟
مقالات ذات صلة










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593567