ہومInternationalایران کا افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان سائٹ پر موجود ہے

ایران کا افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان سائٹ پر موجود ہے

اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کا دعویٰ

نیویارک، 30 اپریل (یو این آئی) اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی کے سربراہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران کا زیادہ تر اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم غالباً اب بھی اس کے اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں موجود ہے۔آئی اے ای اے چیف رافائل گروسی نے منگل کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے پاس سیٹلائٹ تصاویر موجود ہیں جو ایران کے خلاف حالیہ امریکہ اسرائیل فضائی حملوں کے اثرات دکھاتی ہیں، اس سلسلے میں ہمیں مسلسل معلومات مل رہی ہیں۔گزشتہ سال اصفہان سائٹ پر فضائی حملے کیے گئے تھے اور اس سال بھی امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران اسے نسبتاً کم شدت کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اصفہان میں آئی اے ای اے کے معائنے اس وقت ختم ہو گئے تھے جب اسرائیل نے گزشتہ جون میں 12 روزہ جنگ شروع کی اور اس دوران امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات پر بمباری کی۔گروسی کے مطابق اقوامِ متحدہ کا جوہری نگران ادارہ سمجھتا ہے کہ ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کا ایک بڑا حصہ جون 2025 میں وہاں ذخیرہ تھا جب 12 روزہ جنگ شروع ہوئی اور تب سے یہ وہیں موجود ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم ابھی تک یہ معائنہ نہیں کر سکے اور نہ ہی مواد وہاں موجود ہونے کی تردید کر سکے ہیں، اور آئی اے ای اے کی مہریں بھی برقرار ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا افزودہ یورینیم ممکنہ طور پر اب بھی اصفہان کے جوہری کمپلیکس پر موجود ہے۔ گروسی نے کہا ایئربس کے ایک سیٹلائٹ سے حاصل شدہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ 9 جون 2025 کو، گزشتہ سال کی جنگ شروع ہونے سے کچھ پہلے، 18 نیلے کنٹینروں سے بھرا ایک ٹرک اصفہان نیو کلیئر ٹیکنالوجی سینٹر میں ایک سرنگ میں داخل ہو رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کنٹینروں میں اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم موجود تھا اور غالباً اب بھی وہیں ہے۔ 12 روزہ جنگ کے بعد سے جوہری تنصیبات کا معائنہ معطل ہے، اصفہان نیو کلیئر کمپلیکس میں یورینیم کی موجودگی کی ابھی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی، صورت حال کا حتمی جائزہ معائنے کی بحالی سے مشروط ہے۔گروسی کا کہنا ہے کہ ایران کے تمام جوہری مقامات کا معائنہ ضروری ہے۔ آئی اے ای اے نطنز اور فردو میں موجود ایران کی جوہری تنصیبات کا بھی معائنہ کرنا چاہتی ہے، جہاں کچھ جوہری مواد بھی موجود ہے۔ گروسی کے مطابق ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا فریق ہے، جس کا پانچ سالہ جائزہ اس وقت اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جاری ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران پر لازم ہے کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کو آئی اے ای اے کے معائنے کے لیے کھولے۔
یو این لایجنسی کے مطابق ایران کے پاس 440.9 کلوگرام (972 پاؤنڈ) یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک ہے، جو تکنیکی طور پر 90 فیصد اسلحہ جاتی سطح سے صرف ایک چھوٹا سا قدم دور ہے۔ گروسی کے مطابق آئی اے ای اے کا خیال ہے کہ تقریباً 200 کلوگرام (تقریباً 440 پاؤنڈ) یورینیم اصفہان کے مقام پر سرنگوں میں ذخیرہ ہے۔گروسی نے گزشتہ سال اے پی کو بتایا تھا کہ اگر ایران اپنے پروگرام کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرے تو یہ ذخیرہ ملک کو تقریباً 10 جوہری بم بنانے کے قابل بنا سکتا ہے۔ تہران طویل عرصے سے اصرار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے جنگ میں جانے کی ایک بڑی وجہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم کرنا تھا، حالانکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ موسمِ گرما کے حملوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا۔گروسی نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کی پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایران نے گزشتہ جون میں اصفہان میں یورینیم افزودگی کی ایک نئی تنصیب کا اعلان کیا تھا اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو حملوں کے آغاز کے دن وہاں جانے کا شیڈول دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، بظاہر اس تنصیب کو نہ تو گزشتہ سال اور نہ ہی اس سال اصفہان پر ہونے والے حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات