International

غزہ: تیل، امداد، فضائی حدود، عرب رہنما کیا کر سکتے ہیں؟

67views

غزہ میں انسانی صورتحال اور اس کے ساتھ داخلی طور پر بڑھتا عوامی غم وغصہ عرب رہنماؤں پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ غزہ کے حوالے سے کچھ کریں۔ تیل پر پابندی سمیت مختلف سخت اقدامات بھی تجویز کیے جا رہے ہیں۔1970ء کی دہائی کے اوائل میں تیل پیدا کرنے والی عرب ریاستوں نے امریکہ، ہالینڈ اور پرتگال سمیت کئی دیگر ممالک کو تیل کی فراہمی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں اسرائیل کی حمایت کرنے پر سزا دی جا سکے۔ اس واقعے کو اکثر دنیا کا تیل کے حوالے سے پہلا بحران قرار دیا جاتا ہے۔

عرب ممالک فلسطینیوں کی نئی نقل مکانی سے خوف زدہ

اکتوبر 1973ء میں، شام اور مصر نے جزیرہ نما سینائی اور گولان کی پہاڑیوں سمیت اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش میں اسرائیل پر حملے شروع کیے تھے، جس پر اسرائیل نے 1967ء میں اسرائیلی عرب لڑائی کے بعد قبضہ کیا تھا۔ دیگر عرب ممالک، مثلاﹰ تیل پیدا کرنے والے سرکردہ ملک سعودی عرب نے تیل کی فراہمی پر پابندی عائد کر کے اس کوشش کی حمایت کی۔ اسے اس وقت کچھ لوگوں نے ”آئل ویپن‘‘ یعنی تیل کے ہتھیار کا نام دیا تھا۔

تیل کی یہ پابندی 1974ء تک جاری رہی اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ سے افراط زر بڑھی اور امریکہ میں پٹرول کی قلت پیدا ہو گئی جو عوامی غم و غصہ کی وجہ بنی۔ لیکن اس پابندی نے امریکی سفارت کاروں کو خطے میں مداخلت کرنے اور مصریوں اور اسرائیلیوں کو، جو اس وقت جنگ لڑ رہے تھے، مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی مدد کی۔

الجزائر اور لبنان سمیت کچھ ممالک نے نومبر میں سعودی عرب میں ہونے والے ایک اجلاس میں تجویز پیش کی تھی کہ اب ”تیل کے ہتھیار‘‘ کا دوبارہ استعمال کیوں نہ کیا جائے۔ اس اجلاس میں عرب رہنماؤں نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ انہیں غزہ کے موجودہ تنازعے پر کیا رد عمل دینا چاہیے۔ اس خیال کو فوری طور پر رد کر دیا گیا اور سعودی عرب کے حکام نے، جو اس طرح کی کسی بھی پابندی میں ایک اہم کھلاڑی ثابت ہو سکتے تھے، اسے یکسر مسترد کر دیا۔

واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں اسرائیلی فلسطینی امور کے پروگرام کے ڈائریکٹر خالد الجندی کے بقول جب غزہ کے تنازعے پر ردعمل ظاہر کرنے کی بات آتی ہے تو عرب ریاستوں کو ”تھوڑی سی الجھن‘‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”وہ مختلف مسابقتی مفادات کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ”ایک طرف وہ اپنے عوام کے سامنے یہ دکھانا چاہتے ہیں جو اسرائیل اور امریکہ دونوں سے شدید ناراض ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے حامی ہیں، دوسری جانب وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے جس سے ان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات خطرے میں پڑ جائیں، خطے میں تشدد کو مزید ہوا ملے یا ان کی اپنی حکومتوں کو عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑے۔‘‘

مسجد ایودھیا کا ڈیزائن تبدیل، عرب ممالک کی طرز پر ہوگی تعمیر، نام پیغمبر اسلامؐ سے ہوگا منسوب

رد عمل کے لیے دباؤ

الجندی کے مطابق تیل پر عالمی پابندی ”امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ براہ راست تصادم‘‘ کا باعث بنے گی، یہی وجہ ہے کہ اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ مگر ساتھ ہی عرب رہنماؤں پر کچھ کرنے کے لیے دباؤ بڑھ تا جا رہا ہے۔ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے رہائشیوں کو اسرائیل کی ہاتھوں جاری ناکہ بندی کی وجہ سے بھوک اور بیماری کا خطرہ ہے۔ قطر اور اردن کے سینئر سیاست دانوں سمیت کچھ عرب رہنما علاقائی جنگ کے خطرے اور اپنے ہی لوگوں میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی کے خطرے سے خبردار کر چکے ہیں۔

عرب ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم عرب لیگ نے پیر 22 جنوری کو قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے بعد ایک قرارداد جاری کی جس میں کہا گیا کہ عرب ممالک فلسطینی عوام کی نقل مکانی کو روکنے کے لیے تمام قانونی، سفارتی اور معاشی اقدامات کریں گے اور ان اقدامات کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

تو عرب ممالک کے پاس راستے کون سے ہیں؟ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے الجندی نے وضاحت کی کہ کچھ ممکنات منطقی نہیں ہیں۔ اردن جیسا ملک، جو اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سب سے زیادہ غم و غصے کا اظہار کرتا ہے، مغربی کنارے میں ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی سہولت فراہم کرنے جیسا کچھ نہیں کرے گا۔ اس سے واضح طور پر اردن اور فلسطینیوں دونوں کے لیے مزید تشدد اور عدم استحکام پیدا ہوگا اور ساتھ ہی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوں گے۔

الجندی نے مشورہ دیا کہ عرب رہنما ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جن میں اسرائیلی سفیروں کو ملک بدر کرنا (اگرچہ اسرائیل مخالف مظاہروں کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو پہلے ہی نکال لیا گیا ہے)، اسرائیلی قوانین کو تسلیم کیے بغیر امداد کی فراہمی کے لیے جرات مندانہ اقدامات کرنا، عرب ممالک میں امریکی اڈوں کے ذریعے اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی روکنا یا عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی عدالت میں شامل ہونا شامل ہونا شامل ہیں۔

الجندی کے بقول حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی عرب ملک نے باضابطہ طور پر آئی سی جے کیس میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔ اس طرح کا اقدام ”یقینی طور پر امریکہ کو ناراض کرے گا اور ان ممالک کے لیے جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے ہیں، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو پیچیدہ بنائیں گے۔ یہاں تک کہ ایسی صورت میں ان ممالک کے خلاف امریکہ کی طرف سے پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ لیکن اس طرح کے اقدامات ممکنہ طور پر عارضی ہوں گے۔‘‘

عرب اتحاد کی توقع نہ کریں، ماہرین

قطر میں قائم مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور میں خارجہ پالیسی اور سلامتی پروگرام کے ڈائریکٹر عادل عبدالغفار کے مطابق عرب ممالک کی جانب سے حقیقی طور پر کوئی مربوط یا ٹھوس ردعمل سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ان میں سے ہر ایک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے، اور یہاں تک کہ خلیجی ریاستیں بھی ان میں سے کچھ معاملات پر منقسم ہیں۔ یہ چیز ہمیشہ سے ایک مربوط عرب خارجہ پالیسی کی کمزوری رہی ہے۔‘‘

عبدالغفار کے بقول جہاں کچھ عرب ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جیسے کثیر الجہتی اداروں کے ذریعے کام کرنے میں اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، وہیں انہوں نے چین اور روس سمیت غیر مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر بھی کام کرنا جاری رکھا۔

انہوں نے تجویز دی کہ مصر اور اردن انفرادی طور پر مزید اقدامات کر سکتے ہیں، جیسے غزہ سے مزید طبی کیسز کو قبول کرنا یا عارضی طور پر بے گھر فلسطینیوں کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دینا۔ لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے رکھنے والا کوئی بھی ملک ان معاہدوں سے دستبردار ہو جائے گا۔ دوحہ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار عبدالغفار نے مزید کہا، ”یہ امن معاہدے امریکہ کی طرف سے سکیورٹی تعاون اور معاشی ترغیبات سے بھی منسلک ہیں۔‘‘

اس وقت جس دباؤ کو سب سے زیادہ بڑھایا جا رہا ہے وہ اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کے خاتمے کا خطرہ ہے۔ عربوں کی سرپرستی میں حال ہی میں ایک منصوبہ تجویز کیا گیا ہے جس میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بہتری کو فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ اس دہائیوں پرانے تنازعے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اتوار 21 جنوری کو امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این کو بتایا کہ خطے میں حقیقی امن ”فلسطینی ریاست کی طرف ایک قابل اعتماد اور ناقابل تنسیخ پیش رفت کے ذریعے ممکن ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ”ہم سب، صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ عرب ریاستوں کی حیثیت سے بھی اس بات چیت میں شامل ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘‘ اگر اسرائیل اس پر راضی نہیں ہوتا ہے تو بن فرحان نے کہا کہ یہ پیشکش پھر باقی نہیں رہتی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اب کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ فلسطینی ریاست کے تصور کو مسترد کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ تھنک ٹینک کی سینئر مشیر دینا اسفندیاری نے بلومبرگ نیوز ایجنسی کو بتایا، ”عرب ریاستیں جانتی ہیں کہ اسرائیلی شاید ان پر کسی خاص دباؤ کے بغیر اس طرح کی کسی چیز پر دستخط نہیں کریں گے۔‘‘

لیکن عبد الغفار کے مطابق اس وقت سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو بطور انعام برقرار رکھنا ہی واحد آپشن ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیتن یاہو اس وقت بین الاقوامی مسائل، غیر ملکی اتحادیوں یا متحدہ عرب محاذ کے مقابلے میں داخلی خدشات سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے تعلقات معمول پر لانے کی پیش کش عرب ممالک کے درمیان رابطہ کاری کی حد کے بارے میں ہے۔

Follow us on Google News