International

غزہ بحران: سعودی سفارتکار کی جنگ کے علاقائی پھیلاؤ کی وارننگ

64views

غزہ پر اسرائیل کے حملے کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا جس کے بعد ایک تجربہ کار سعودی سفارت کار نے خبردار کیا ہے کہ یہ تنازع علاقائی دہشت گردی کا باعث بن سکتا ہے اور ہمسایہ ممالک میں پھیل سکتا ہے۔ غزہ میں صحت کے حکام اور اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سات اکتوبر سے جاری حماس-اسرائیل جنگ کے تباہ کن اثرات قحط کی صورت میں سامنے آنے کا شدید خدشہ ہے۔

لبنان اور پاکستان میں سعودی عرب کے سابق سفیر ڈاکٹر علی عواض عسیری نے عرب نیوز کے ہفتہ وار ٹاک شو “فرینکلی سپیکنگ” میں شرکت کے دوران خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ انہوں نے “فرینکلی اسپیکنگ” کی میزبان کیٹی جینسن کو بتایا، “اسرائیل کو فوری طور پر (غزہ میں مظالم) کو روکنا اور انسانی طریقے سے نمٹنا ہوگا (تاکہ) یرغمالی (حماس کے ہاتھوں) تشدد کا نشانہ نہ بنیں۔ یہ جواب ہے۔”

انہوں نے مزید کہا: “ہمیں امید ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہوگی۔ رمضان آ رہا ہے۔ اور جو بربریت ہم نے دیکھی ہے وہ کسی کو، کسی بھی انسان کو خاص طور پر مسلم دنیا میں خوش نہیں کرے گی۔” علاقائی پھیلاؤ کے خطرات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا جنگ پہلے ہی اسرائیل کے شمال اور لبنان کے جنوب میں تناؤ کا باعث بن رہی ہے۔ “حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ادلے کا بدلہ جاری ہے۔”

انہوں نے مزید کہا: “ہمیں امید ہے کہ (جنگ) نہ بڑھے کیونکہ اگر ہمیں یاد ہے تو 2006 کی (اسرائیل-حزب اللہ) جنگ نے لبنان کو تباہ کر دیا تھا۔ اور تمام لبنانی واقعی جنگ نہیں چاہتے۔ وہ امن چاہتے ہیں۔ ان کی معیشت خراب ہے۔ ان کی حکومت خراب ہے۔” اگرچہ لبنان کے شہری “امن اور خوشحالی کے سوا کچھ نہیں چاہتے ہیں” تو اسیری نے کہا ملک میں حزب اللہ کی طاقت اور توسیع کے ذریعہ خطے پر ایران کے کنٹرول کی وجہ سے صورتِ حال پیچیدہ ہے۔

انہوں نے کہا، “حزب اللہ کے لیے حکم ایران سے آتا ہے اور یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ایران کیا چاہتا ہے۔ حزب اللہ ایران سے آنے والے حکم کو سنتا ہے۔” دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے سعودی عرب کی اپنی حکمتِ عملی پر بحث کرتے ہوئے اسیری نے کہا یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی کامیاب ترین حکمتِ عملی ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مملکت نے دہشت گردی اور بنیاد پرستی میں اہم کردار ادا کرنے والے تمام عوامل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع طریقہ اختیار کیا – “جس میں فوجی اور غیر فوجی طریقے شامل ہیں۔” اسیری نے کہا کہ بہت سے ممالک نے بالخصوص عرب دنیا اور جنوبی ایشیا میں سعودی عرب سے سبق لیا کہ کس طرح انسدادِ دہشت گردی کے کامیاب پروگرام کو چلانا ہے۔

انہوں نے کہا، “نمبر ایک روک تھام تھی۔ کیونکہ ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا اور انہیں اس کی طرف لے جایا جا رہا تھا اور اس لیے وہ اسلام کی اصل روح (اور) پیغام سے واقف نہیں تھے۔”

“ہم نے دوسرے ممالک کو دیکھا ہے جہاں انہوں نے دہشت گردوں کو گرفتار اور ان پر تشدد کیا اور وہ ان سے تفتیش کرتے ہیں۔ وہ طویل عرصے تک جیل میں رہتے ہیں یا پھر واپس آ کر وہی کام کرتے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہماری حکومت نے اس رجحان کے بارے میں ایک مہذب انداز اختیار کیا ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

انہوں نے مزید کہا: “جس حکمتِ عملی پر عمل کیا گیا اور موجودہ حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں، اس سے نوجوان خوش ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ کبھی واپس جانے یا دوبارہ دہشت گرد بننے کے بارے میں سوچیں گے۔ کبھی نہیں۔” فرینکلی سپیکنگ کی مکمل قسط اتوار کو ریلیز کی جائے گی۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

Follow us on Google News