JharkhandRanchi

روزنامہ قومی تنظیم کے مقامی ایڈیٹر اے ایچ رضوی انتقال فرما گئے

A H Rizwi Qaumi Tanzeem Ranchi Editor
821views

اُردو صحافت کا ایک اور چراغ بجھ گیا

تقریباً 50 برسوں تک اُردو صحافت کی آبیاری خون جگر سے کرتے رہے

مظفر حسن
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 28 اکتوبر:۔ اے ایچ رضوی، ہاں ان کے جاننے والے بیشتر لوگ انہیں اسی نام سے جانتے تھے۔ حالانکہ ان کا نام امیر حسین رضوی تھا۔ 27 اکتوبر جمعہ کا دن گزار کر آدھی رات کے قریب مالک حقیقی سے جا ملے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ رضوی صاحب ان چند گنے چنے اردو صحافیوں میں تھے جن کی زندگی کا اوڑھنا، بچھوناسب کچھ اخبار ہی تھا۔ دھنباد سے اپنا ہفتہ وار اخبار دھنباد ایکسپریس نکالتے تھے۔ کسی وجہ سے اخبار بند ہو گیا تو 1980 کی دہائی کے آغاز میں ہی دھنباد سے پٹنہ آ گئے اور یہاں روزنامہ قومی تنظیم سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں میرا ان کا ساتھ خوب رہا، برسوں ایک ٹیبل پر ہم دونوں نے خدمات انجام دیئے۔ 1989 میں میں نے قومی تنظیم سےعلاحدگی اختیارکرلی لیکن رضوی صاحب قومی تنظیم میں ہی رہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے وہ بیمار چل رہے تھے جب تک کام کر سکتے تھے ، کام کرتے رہے۔ جب صاحب فراش ہو گئے تبھی انہوں نے قلم چھوڑا۔ روزنامہ قومی تنظیم پٹنہ میں کئی برس گزار نے کے بعد انہیں رانچی بھیج دیا گیا۔ اس وقت نہ تو جھارکھنڈ تھا نہ ہی اس کے بننے کے کوئی آثار تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ریاست بہار کے سبھی ضلعوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔ رانچی میں قومی تنظیم کے بیورو چیف کی حیثیت سے کام سنبھالنے کے بعد رضوی صاحب نے نہ صرف اس اخبار کو عوامی مقبولیت دلانے کے لئےدن رات ایک کر دیا، بلکہ اردو زبان کے فروغ کیلئے بھی حتی الامکان کوشش میں سرگرداں ہو گئے۔ کم از کم میں کسی ایسے اردو صحافی کو نہیں جانتا جو گاؤں گاؤں تک اپنے پرانے اسکوٹر سے پہنچ کر مساجد میں جمع کی نماز سے قبل لوگوں کو اردو پڑھنے کی ترغیب دلاتا ہو اور اخبار پڑھنے کے فائدوں سے روشناس کراتا ہو۔ لیکن رضوی صاحب ایسے ہی تھے۔ انہوں نے اس نہج پر زبردست محنت کی۔ کبھی لوہردگا، کبھی گملا، کبھی کھونٹی اور کبھی کہیں اور لگاتار دورے کرتے تھے۔ قومی تنظیم کو وہاں تک پہنچانے کا انتظام کرتے تھے اور لوگوں کو اخبار پڑھنے ، اردو پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ اپنے ساتھ انہوں نے رانچی سمیت مختلف اضلا ع میں کئی ایسے لوگوں کو جوڑا جو تھوڑی بہت بھی اخبار اور صحافت سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اتنا ہی نہیں انہوںنے اپنے اس کام میں اپنے خاندان والوں کو بھی جوڑ لیا۔اور ایک راز کی بات آپ کو بتا ؤں کہ رانچی میں فارو قی تنظیم پہلے ہی سے شا ئع ہو رہا تھا،قومی تنظیم برسوں بعد رانچی سے چھپنا شروع ہوا۔ قومی تنظیم کی ذمہ داری رضوی صا حب سنبھا ل رہے تھے اور میں فارو قی تنظیم کا جھنڈا بلند کئے ہو ئے تھا۔عام طور پرایسی حالت میں پیشہ وارانہ چشمک پیدا ہو ہی جا تی ہے، لیکن میں پوری دیا نتداری سے آپ کو بتا نا چا ہتا ہوں کہ ہم دونوں کے تعلقات ویسے ہی قائم رہے ، جیسے میرے فاروقی تنظیم میں آنے سے قبل قومی تنظیم پٹنہ میں ایک ساتھ کام کرتے ہو ئے تھے۔پیشہ وارانہ طور پر اونچ، نیچ کا قائل میں کبھی نہیں رہا، رضوی صا حب بھی نہیں تھے۔ اور شاید ہم دو نو ں ہی ایما ندارنہ صحافت کی ڈگر پر چل رہے تھے، اس لئے کبھی بھی کو ئی نا چا قی پیدا نہیں ہو ئی ۔یہ ا ور بات ہے کہ دو نو ں اخبارات کے مالکان کے در میان تھو ڑی بہت رسہ کشی ہو تی رہتی تھی۔
آج جو روزنامہ جدید بھارت آپ تک پہنچ رہا ہے اور اس کے جو بانی مبانی منیجنگ ایڈیٹر مسٹر ایس ایم خورشید ہیں، رضوی صاحب ان کے سگے پھوپھا تھے۔ رضوی صاحب ہی ایس ایم خورشید کو اخبار کے کام میں ہاتھ بٹانے کیلئے پٹنہ سے رانچی لائے تھے۔ خود اپنی اولادوں میں سے بھی ایک آدھ کو بھی اخبار کے کام میں استعمال کرنے میں انہوںنے کوئی دریغ نہیں کیا۔ ایس ایم خورشید کے ایک بھائی ایس ایم آصف کو بھی انہوںنے قومی تنظیم میں جھونک رکھا تھا۔ خاص طور پر اس وقت جب اپریل 2004 میں قومی تنظیم کی رانچی سے اشاعت شروع ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رضوی صاحب نے رانچی ، جھارکھنڈ میں قومی تنظیم کی شناخت قائم کرنے میں اپنے آپ کو ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان کے کئی نوجوانوں کو بھی وقف کر رکھا تھا۔
ان کی وفات سے بہار اور جھارکھنڈ کی اردو صحافت میں جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا ناممکن ہے۔ سنیچر کو رانچی میں حضرت مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نےمرحوم اے ایچ رضوی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بالکل بجا فرمایا کہ رضوی صاحب ایک ہونہار صحافی ہی نہیں ایک عمدہ مقرر بھی تھے اور اس سے بھی بڑھ کر وہ امتِ مسلمہ کے مابین اتحاد کے زبردست حامی تھے۔ انہوںنے تا زندگی اپنے قلم اور اپنی زبان سے یعنی اپنی تحریر و تقریر کی قوت سے قومی تنظیم کو ایک پہچان دلائی اور سماج کو جوڑنے کیلئے پورے حوصلہ کے ساتھ کام کیا۔
سنیچر کو بعد نماز ظہر ڈورنڈا قبرستان میں مرحوم رضوی صاحب کی میت کی تدفین عمل میں آئی اس سے قبل جنازہ کی نماز ادا کی گئی۔ اس موقع پر رانچی ہی نہیں آس پاس کے علاقوں سے بڑی تعداد میں ان کے چاہنے والے موجود تھے۔ گذشتہ رات ہی جب ان کے وفات کی خبر لوگوں تک پہنچی تو اسپتال میں ہی لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ مرحوم اپنے پیچھے اپنا بھرا پورا کنبہ چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ خدائے رب العزت سے دعا ء ہے کہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا کریں۔ یہاں یہ لکھنا نامناسب نہیں ہوگا کہ ایس ایم خورشید کو اخبار کے رموز سے آشنا کرنے میں انہوں نے اپنا پورا حق ادا کیا۔ ساتھ ہی جب جدید بھارت کی اشاعت شروع ہوئی تب بھی وہ اس اخبار کو بلندی تک پہنچانے کیلئے ہمیشہ نیک مشوروں سے نوازتے رہے۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.