Jharkhand

پی ایم مودی مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں: کانگریس

231views

پی ایم مودی نے دمکا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ‘جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی’ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے جھارکھنڈ کی موجودہ حکومت پر تنقید کی تھی۔ اس پر جھارکھنڈ حکومت میں شامل کانگریس نے جواب دیا ہے۔ کانگریس لیڈر عرفان انصاری کے کہا ہے کہ یہ انتظام اس وقت بھی تھا جب ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی لیکن اس وقت پی ایم مودی نے اپنے وزیر اعلیٰ یا کسی وزرا سے اس تعلق سے کوئی سوال نہیں پوچھا اور جب ہماری حکومت آئی تو اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے عرفان انصاری نے کہا کہ یہ مسئلہ بہت پرانا ہے۔ جہاں پر سو فیصدی مسلمان ہیں وہاں پر آزادی کے بعد سے یہ چلا آرہا ہے۔ اس لیے نماز کے لیے جمعہ کو چھٹی دی گئی تھی اور اتوار کو وہاں کلاسیز ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے یہاں 20 سال تک حکومت کی۔ اس دوران اس نے اسے نہیں بند کیا، اس دوران اس موضوع کو نہیں اٹھایا۔

عرفان انصاری نے مزید کہا کہ جب ہماری حکومت بنی تو بی جے پی نے اس مسئلے کو زور وشور سے اٹھانا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں پی ایم مودی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنے لیڈروں سے کیوں نہیں پوچھا؟ جب ریاست میں آپ کے وزیراعلیٰ اور وزراء تھے تو اسے بند کر دینا چاہیے۔ جان بوجھ کر عیسائیوں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ عرفان انصاری نے کہا کہ ان کی پالیسی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی ہے۔ بی جے پی کی ذہنیت انگریزوں سے بھی زیادہ خطرناک ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ 28 مئی کو پی ایم مودی نے دمکا میں کہا تھا کہ ہمارے ملک میں اتوار کو چھٹی ہوتی ہے۔ جب یہاں انگریزوں کی حکومت تھی تو عیسائی برادری اتوار کو چھٹی مناتی تھی، یہ روایت تب سے شروع ہوئی۔ اتوار کا تعلق ہندوؤں سے نہیں، عیسائی سماج سے ہے۔ اب انہوں نے ایک ضلع میں اتوار کی چھٹی پر تالے لگوا دیئے اور کہا کہ جمعہ کو چھٹی دی جائے گی۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.