West Bengal

وشوبھارتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بدیوت چکرورتی کو وائس چانسلر کے عہدہ سے ہٹادینا چاہیے : کلکتہ ہائی کورٹ

60views

کلکتہ 17اکتوبر(یواین آئی)کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے آج ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ وشوبھارتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بدیوت چکرورتی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے ۔ ودیوت نے مناس میتی نامی پروفیسر اور سائنسدان کو پروجیکٹ سے ہٹا دیا۔ پروفیسر نے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر کے وائس چانسلر کہ فیصلے کو چیلنج کیا تھا ۔
مانس 2005 سے وشو بھارتی یونیورسٹی میں کام کر رہے ہیں۔ وہ CERN نامی پروجیکٹ پر بھی کام کر رہے تھے۔ 2021 میں یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کے پروفیسرز نے وائس چانسلر کے ایک فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کے بعد ان پروفیسروں مبینہ طور پر حراست میں چھ گھنٹے سے زائد رکھا گیا۔ مناس نے اس واقعہ پر احتجاج کیا۔ انہوں نے پولیس کو بلاکر گرفتار پروفیسروں کو رہا کرانے میں مدد کی۔

درخواست گزارکے وکیل بکاس رنجن بھٹاچاریہ اورایڈوکیٹ شمیم احمد نے عدالت میں کہا کہ وائس چانسلر نے اپنے اختیارات سے باہر جاکر کارروائی کی ہے۔
جسٹس امریتا سنگھ نے مانس کی طرف سے دائر کیس میں کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ جانبدارانہ طورپرکام کر رہے ہیں۔ انتظامیہ مانس کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کر سکتی۔ اس کے بعد جولائی 2022 میں ودیوت نے مناس کو CERN پروجیکٹ سے ہٹانے کے لیے اتھارٹی کو خط لکھا۔ مانس نے دوبارہ کلکتہ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔ گزشتہ سال 13 جولائی کو جسٹس موشومی بھٹاچاریہ نے کہا تھا کہ ودیوت وائس چانسلر بننے کے اہل نہیں ہیں۔ عدالت نے مناس کو پروجیکٹ سے ہٹانے کے فیصلے کو خارج کردیا۔
آج اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس گنگوپادھیائے نے منگل کو اس معاملے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ ودیوت کو وائس چانسلر کے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے ۔ وہ وائس چانسلر کیسے بنے؟ انہوں نے وشو بھارتی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مانس سات دنوں کے اندر پروجیکٹ پر کام شروع کردیں۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.