National

الیکٹورل بانڈ پر ایس بی آئی کو سپریم کورٹ کی لتاڑ، 12 مارچ تک تفصیلات دینے کا حکم

83views

الیکٹورل بانڈ کی تفصیلات دینے سے متعلق سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی۔ الیکٹورل بانڈز پر سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا ملا ہے۔ آج  ہوئی سماعت کے دوران، سپریم کورٹ  نے ایس بی آئی کو کل  یعنی 12 مارچ تک مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایس بی آیئ کی درخواست پر سماعات کرتے ہوئے عدالت نے پوچھا کہ آخر اسے الیکٹورل بانڈ کے اعداد وشمار یکجا کرنے اور اس کی تفصیلات دینے میں کیا دشواری پیش آ رہی ہے۔ عدالت نے ایس بی آئی کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر الیکٹورل بانڈ کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کرے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ایس بی آئی سے سوال کیا کہ گزشتہ 26 دنوں کے دوران آپ نے کیا کیا؟ اس پر ایس بی آئی نے کہا کہ ہمیں تفصیلات دینے میں کوئی دقت نہیں ہے لیکن تھوڑا وقت دیا جائے۔

چیف جسٹس نے ایس بی آئی سے کہا کہ ’’آپ ہمیں بتائیں کہ  26 دنوں سے  آپ کیا کر رہے تھے؟‘‘ اس کے بعد جسٹس کھنہ نے کہا کہ ’’آپ خود اس بات کو قبول کر رہے ہیں کہ آپ کو تفصیلات دینے میں کوئی دشواری نہیں ہے، تو ان 26 دنوں میں کافی کام ہو سکتا تھا۔‘‘ عدالت نے ایس بی آئی سے کہا کہ وہ الیکٹورل بانڈ کے بارے میں فوری طور پر الیکشن کمیشن کو معلومات فراہم کرے۔ چیف جسٹس چندر چوڑ نے ایس بی آئی کو حکم دیا کہ وہ 12 مارچ تک انتخابی بانڈ سے متعلق تمام معلومات الیکشن کمیشن کو فراہم کرے۔ اس میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی بانڈ کی نقدی کے بارے میں معلومات بھی شامل ہونی چاہیے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایس بی آئی سے پوچھا کہ ’’ اب تک آپ نے کیا کیا؟‘‘ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی پاردی والا، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوئی، جسٹس منوج مشرا کی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران ایس بی آئی نے کہا کہ ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرنے میں وقت لگے گا۔ ایس بی آئی کے وکیل ہریش سالوے نے اس کے لیے مزید وقت طلب کیا۔ جسٹس کھنہ نے ایس بی آئی کے وکیل ہریش سالوے سے کہا کہ ’’سیاسی پارٹیوں نے بانڈ کو کیش کرنے سے متعلق معلومات دے دی ہے۔ آپ کے پاس پہلے سے ہی تفصیلات موجود ہیں۔‘‘ اس پر سالوے نے کہا کہ ’’براہ کرم ہمیں ڈیٹا یکجا کرنے کے لیے کچھ وقت دیں۔‘‘ اس کے فوراً بعد چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ ’’اب ہم اس معاملے میں حکم دیں گے۔‘’

سینئر وکیل کپل سبل نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی طرف سے انتخابی بانڈ کی تفصیلات دینے کے لیے مزید وقت طلب کرنے کی درخواست  اور اس کی وجوہات کو بچگانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے وقار کی حفاظت کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے اور جب آئینی بنچ پہلے ہی اپنا فیصلہ دے چکی ہے تو ایس بی آئی کی عرضی کو قبول کرنا ’آسان نہیں ہوگا‘۔ واضح رہے کہ انتخابی بانڈ اسکیم کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی گزاروں کے دلائل کپل سبل نے پیش کیے۔

کپل سبل نے کہا کہ ایس بی آئی کا یہ دعویٰ کہ ڈیٹا کو یکجا کرنے میں کئی ہفتے لگیں گے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ کوئی کسی کو بچانا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ایس بی آئی کا ارادہ حکومت کو تحفظ فراہم کرنا ہے، بصورت دیگر بینک انتخابی بانڈ کی تفصیلات دینے کے لیے 30 جون تک ایسے وقت توسیع کی درخواست نہیں کرتا جب انتخابات اپریل-مئی میں ہونے والے ہیں۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.