National

اننت ہیگڑے کے بیان پر چندرشیکھر آزاد کا سخت ردعمل، کہا ’مودی جی یاد رکھئے‘

68views

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اننت کمار ہیگڈے کے آئین کو تبدیل کرنے کے بیان پر آزاد سماج پارٹی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد نے بی جے پی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کو ہٹلر کی یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کو ختم کرنے کی بات آپ کی آمریت والے ’دس سالہ حکومت‘ کا خاتمہ کرے گی۔

‘اوپن ہائیمر’ کاآسکر میں دھماکہ، بہترین فلم سے لے کر بہترین ہدایت کار اوراداکار تک کے ایوارڈز

چندر شیکھر آزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’آئین کو تبدیل کرنا بی جے پی اور آر ایس ایس کی پرانی منشا رہی ہے، بی جے پی رکن پارلیمنٹ اننت کمار ہیگڈے کا بیان ’400 سیٹیں آئین کو تبدیل کرنے کے لیے‘ اسی منشا کو مزید پختہ کرتا ہے۔‘‘ چندر شیکھر آزاد نے اپنے پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ ’’جن لوگوں نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی جیتے جی جنازہ نکالاہو وہ لوگ ان کے بنائے آئین کو کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ بی جے پی مساوات اور جمہوریت کے خلاف ہے۔‘‘

संविधान बदलना भाजपा और आरएसएस की पुरानी मंशा रही है, भाजपा सांसद अनंत कुमार हेंगडे का बयान ” 400 सीटें संविधान बदलने के लिए ” उसी मंशा को और भी अधिक पुख़्ता करता हैं।

जिन लोगों ने परम् पूज्य बाबा साहेब डॉ० भीमराव अम्बेडकर जी की जीते-जी शव यात्रा निकाली हो, वो लोग उनके बनाएं…

— Chandra Shekhar Aazad (@BhimArmyChief) March 11, 2024

آزاد سماج پارٹی کے سربراہ نے مزید لکھا ہے کہ ’’مودی جی یاد رکھئے ہٹلر بھی ’جمہوریت کی دہائی‘ دے کر اقتدار میں آیا تھا اور اسی نے اپنے ’دس سال کی حکومت‘ میں جمہوریت کو ختم کیا، آپ بھی آئین کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں اور آئین کو ختم کرنے کی بات آپ کی آمریت بھرے ’دس سال کے اقتدار‘ کو ختم کرے گی۔ جب تک ہمارے جسم میں لہو کا آخری قطرہ ہے، اس وقت تک ہم ’آئین کی حفاظت‘ کے لیے جدو جہد کرتے رہیں گے۔‘‘

ایران میں پٹاخوں میں دھماکے سے ایک شخص کی موت، 11 زخمی

واضح رہے کہ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ اننت کمار ہیگڈے نے کہا ہے کہ ’’ اگر آئین میں تبدیلی کرنی ہے تو پارلیمنٹ کی موجودہ اکثریت کے ساتھ یہ ممکن نہیں ہے۔ اگر ہم سوچتے ہیں کہ یہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ لوک سبھا میں کانگریس نہیں ہے اور مودی کے پاس لوک سبھ میں دو تہائی اکثریت ہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ آئین کو تبدیل کرنے کے لیے لوک سبھا و راجیہ سبھا میں اکثریت کے ساتھ دو تہائی ریاستوں میں بھی جیت حاصل کرنی ضروری ہے۔‘‘ ہیگڑے نے مزید کہا ہے کہ ’’مودی نے کہا ہے کہ ’اب کی بار 400  پار‘ 400 پا کیوں؟ لوک سبھا میں ہمارے پاس دو تہائی اکثریت ہے لیکن راجیہ سبھا میں نہیں ہے۔ ریاستی حکومتوں میں ہمارے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔‘‘ اننت کمار کا ہیگڈے نے مزید کہا تھا کہ ’’اگر کانگریس کی تعداد بڑھتی ہے تو بی جے پی حکومت کے ذریعے کی گئی آئین میں تبدیلی راجیہ سبھا سے منظور نہیں ہوگا۔‘‘

Follow us on Google News