نئی دہلی، 23 اپریل (یو این آئی) کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا ہے کہ ان کی حکومت ملک میں ایندھن اور کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے میں ناکام ہو رہی ہے اور اپنی ان تمام ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اس نے حد بندی بل لانے کا ڈرامہ کیا ہے۔کھرگے نے جمعرات کو سوشل میڈیا ‘ایکس،پر لکھا کہ حکومت اپنی ناکامیوں اور مبینہ ‘ایپسٹین فائل، سے جڑے الزامات سے توجہ ہٹانے کے لیے ‘حد بندی کا ڈرامہ، کر رہی ہے، لیکن ملک اس مودی حکومت کے ‘فریب، کو سمجھ چکا ہے۔ انہوں نے حکومت پر ایندھن اور کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔ کھرگے نے کہا کہ خام تیل کی پیداوار مسلسل گر رہی ہے اور درآمدات کے تنوع میں بھی ہندوستان کی حکومت ناکام ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ہندوستانی جہازوں کو محفوظ راستہ نہیں مل رہا ہے اور 54 دنوں سے 14 ہندوستانی جہاز وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2025-26 میں خام تیل کی پیداوار مسلسل 11ویں سال کم ہوئی ہے اور 2014-15 کے بعد سے اس میں تقریباً 22 فیصد کمی آئی ہے۔ گیس کی پیداوار میں بھی قریب 40 فیصد کمی درج کی گئی ہے۔ حکومت نے نئے ایل پی جی کنکشن دینا بند کر دیے ہیں، دیہی علاقوں میں سلنڈر کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے اور کالا بازاری بڑھ رہی ہے۔ کھاد کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی بحران سے پہلے ہی کئی موسموں میں کھاد کی قلت دیکھی جا رہی تھی، جس سے کسان متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مارچ 2026 میں کھاد کی پیداوار پانچ سال کی نچلی سطح پر پہنچ گئی اور اس میں 24.6 فیصد کمی درج کی گئی۔ جولائی 2025 میں چین کی جانب سے خصوصی کھادوں کی برآمد پر پابندی لگانے کے باوجود حکومت نے متبادل درآمدی ذرائع نہیں تلاش کیے، جبکہ اب روس نے بھی کھاد کی برآمد روک دی ہے۔کھرگے نے کہا کہ مودی کو بی جے پی کے ‘مارگ درشک منڈل، کے رکن مرلی منوہر جوشی کے مشورے پر توجہ دینی چاہیے، جنہوں نے حال ہی میں ‘وشو گرو، جیسے الفاظ کے استعمال سے بچنے کی بات کہی ہے۔











Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4592781