نئی دہلی، 10 مئی۔ ایم این این۔ آسٹریلیا اور بھارت نے ہند بحرالکاہل خطے میں بڑھتے ہوئے تزویراتی چیلنجز کے پیش نظر اپنی دفاعی شراکت داری کو مزید وسعت دینے اور بالخصوص بحری سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق رائے نئی دہلی میں منعقد ہونے والے دونوں ممالک کے دسویں دفاعی پالیسی مذاکرات کے دوران سامنے آیا، جہاں دونوں فریقوں نے علاقائی سلامتی، مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت میں تعاون اور سمندری نگرانی کے شعبوں میں روابط کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو کی۔ بھارتی وفد کی قیادت وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری امتابھ پرساد نے کی، جبکہ آسٹریلوی وفد کی سربراہی محکمہ دفاع کے فرسٹ اسسٹنٹ سیکریٹری برنارڈ فلپ نے کی۔ مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد اور تزویراتی ہم آہنگی ہند بحرالکاہل میں استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بات چیت کے دوران بحری سلامتی کو خاص اہمیت دی گئی، کیونکہ دونوں ممالک آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل کے تصور کے حامی ہیں۔ اس مقصد کے لیے بحری تعاون، معلومات کے تبادلے، سمندری راستوں کے تحفظ اور مشترکہ آپریشنز میں ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار اور پیچیدگی میں اضافہ کرنے، تینوں افواج کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری کو وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں جامع تزویراتی شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ دونوں ممالک کواڈ کے اہم ارکان بھی ہیں اور خطے میں امن، سلامتی اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے فروغ کے لیے قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق دفاعی تعاون میں یہ پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کی علامت ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ بھارت اور آسٹریلیا ہند بحرالکاہل میں ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594473