میامی میں امریکی قطری اجلاس
تہران ،10مئی(ہ س)۔باخبر ذرائع نے ہفتے کے روز انکشاف کیا ہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر میامی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی شریک ہوئے۔ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ کے مطابق یہ ملاقات ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھی۔ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران اس وقت ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت پر مذاکرات کر رہے ہیں، جس کا مقصد جنگ بندی اور آئندہ مرحلے میں تفصیلی مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے، جبکہ قطر اس عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اگرچہ جنگ شروع ہونے کے بعد باضابطہ طور پر پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم قطر بھی پسِ پردہ بھرپور سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعے کے روز واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی تھی۔امیر قطر کا منصوبہ براہِ راست دوحہ واپس جانے کا تھا، تاہم انہوں نے اپنا شیڈول تبدیل کرتے ہوئے مزید مشاورت کے لیے میامی کا رخ کیا۔ذرائع کے مطابق قطر کے وزیراعظم نے میامی میں موجودگی کے دوران سعودی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا، جس میں ثالثی کی کوششوں اور جاری مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں بنیادی توجہ ایسی مفاہمتی یادداشت تیار کرنے پر مرکوز رہی جو جنگ کے خاتمے کا راستہ ہموار کر سکے۔اس مقصد کے لیے قطر، پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب باہمی رابطے اور ہم آہنگی کے ساتھ دونوں فریقوں کو معاہدے کی جانب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک ذرائع نے بتایا کہ ثالث ممالک کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ تنازع کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب واشنگٹن اب بھی امریکی ترمیم شدہ تجویز پر ایران کے حتمی جواب کا منتظر ہے۔یاد رہے کہ امریکا نے حال ہی میں ایک نئی تجویز پیش کی تھی، جس کا مقصد ایک محدود اور عارضی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ یہ منصوبہ جامع امن معاہدے کے بجائے مختصر مدتی مفاہمتی یادداشت پر مبنی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے ہیں اور موجودہ مرحلے میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ وقتی نوعیت کا ہوگا۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594473