ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کی درخواست پر کی: ٹرمپ
بیجنگ، 16 مئی (یواین آئی) ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے آزادی کے اعلان کی طرف نہ بڑھے۔یہ بیان انہوں نے شی جن پنگ سے بیجنگ میں ملاقات کے بعد دیا، جو ان کے دو روزہ دورۂ چین کا حصہ تھا اور جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر بات چیت ہوئی۔فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا، ’’میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی آزادی کا اعلان کرے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ کوئی یہ سمجھے کہ چونکہ امریکا ہماری حمایت کرتا ہے اس لیے وہ آزادی کا اعلان کر سکتا ہے۔‘‘ٹرمپ نے واضح کیا کہ تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا، ’’میں چاہتا ہوں کہ تائیوان کشیدگی کم کرے اور میں چاہتا ہوں کہ چین بھی کشیدگی کم کرے۔‘‘دوسری جانب شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکا کے تعلقات میں سب سے اہم معاملہ ہے اور اگر اسے غلط انداز میں سنبھالا گیا تو دونوں طاقتیں ’’تنازع‘‘ کی طرف جا سکتی ہیں۔چین تائیوان کو اپنی ایک علیحدہ صوبائی اکائی قرار دیتا ہے اور اسے دوبارہ اپنے ساتھ شامل کرنا قومی ہدف سمجھتا ہے، جبکہ طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مسترد نہیں کرتا۔امریکی تھنک ٹینک نیو امریکن سیکیورٹی کے ماہر جیکب اسٹوکس کے مطابق اس دورے کا مقصد زیادہ تر تعلقات کو مستحکم دکھانا تھا، نہ کہ فوری اور ٹھوس نتائج حاصل کرنا۔اسی دوران چینی وزارت خارجہ کے حوالے سے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ شی جن پنگ خزاں میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کیلئے اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔بوئنگ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ چین نے 200 طیاروں کی خریداری کے ابتدائی معاہدے پر اتفاق کیا ہے جبکہ مستقبل میں مزید آرڈرز کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے میں مدد کی پیشکش کی اور ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم چینی سرکاری بیانات میں ان تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مشرق وسطیٰ میں فوری اور مکمل جنگ بندی اور بحری راستوں کو جلد کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے جاسوسی اور سائبر سرگرمیوں سے متعلق سوال پر کہا، ’’دونوں ممالک ایک دوسرے کی نگرانی کرتے ہیں، یہ معمول کی بات ہے، ہم بھی ان کی جاسوسی کرتے ہیں۔‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ ہموار کرنے کے مقصد سے ایران کے ساتھ جنگ بندی ’’پاکستان کی درخواست پر‘‘ کی گئی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ابتدا میں جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے، لیکن بین الاقوامی درخواستوں اور سفارتی دباؤ کے باعث اس پر آمادہ ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کو واشنگٹن اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیا۔ٹرمپ نے کہا، ’’ہم نے دراصل دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی۔ میں ذاتی طور پر اس کے حق میں نہیں تھا، لیکن پاکستان کی درخواست قبول کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم بہت شاندار ہیں۔‘‘انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس جنگ بندی کو کسی سمجھوتے کے طور پر نہیں بلکہ اپنی طاقت کے اظہار کے تناظر میں دیکھتا ہے۔چین کے کردار سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں، تاہم شی جن پنگ اپنی توانائی ضروریات کے پیش نظر ایران پر دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔ٹرمپ نے کہا، ’’چین اپنی توانائی کا تقریباً 40 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے حاصل کرتا ہے، اس لیے وہ ضرور چاہے گا کہ یہ راستہ کھلا رہے۔‘‘رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان 7 اپریل کو کیا گیا تھا، جبکہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا تھا۔اسی دوران امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایرانی فوجی طیارے پاکستان کے نور خان ایئربیس اور افغانستان میں اترے تھے تاکہ انہیں امریکی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے، تاہم پاکستان اور طالبان حکومت دونوں نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے بعد امریکہ میں بعض قانون سازوں نے پاکستان کے ثالثی کردار پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ لنڈسے گراہم نے کہا کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوئے تو پاکستان کے کردار کا ’’مکمل ازسرنو جائزہ‘‘ لینا ہوگا۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4595210