آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملنے پرنیٹو ملکوں سےٹرمپ کا شکوہ
واشنگٹن، 17 مارچ (یو این آئی) آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملنے پر امریکی صدر دنیا سے ناراض ہوگئے، کسی کو طعنہ دیا تو کسی کو دھمکی دی۔امریکی صدر نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نیٹوکےلیےموجود رہے، جب ہمیں ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں تھا، ہم نےنیٹوکےدفاع پر اربوں ڈالرخرچ کیے لیکن ہمارے دفاع کےلیے وہ موجود نہیں۔صدر ٹرمپ بولے برطانوی وزیراعظم نے انہیں مایوس کیا، جنگ جیتنےکےبعد اسٹارمر نےجنگی طیارے بھیجنےکا اعلان کیا، برطانوی وزیراعظم کوبتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد آپ کے طیارہ بردار جہاز وں کی ضرورت نہیں۔چین اور دیگر ممالک آبنائے ہرمزکو محفوظ بنانے کیلئے بحری بیڑے بھیجیں، ٹرمپ کی ایک بار پھر مددکی اپیل ۔ٹرمپ نے کہا امریکہ نے ایرانی رجیم کا خاتمہ کر دیا ہے، آبنائے ہُرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دی ہیں، ایران کا بحری اور فضائی دفاع مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، جن ملکوں کا تیل آبنائے ہُرمُز سے جاتا ہے وہ اب آگے آئیں۔امریکی صدر نےکہا ایران میں مذاکرات کےقابل کوئی قیادت موجود ہی نہیں، میرے خیال میں ایران کے نئےسپریم لیڈر بھی زندہ نہیں ہیں، انہوں نے دعویٰ کیاکہ پچھلی قیادت امریکی عوام کے ساتھ فراڈ میں ملوث تھی۔صدر ٹرمپ بولے پرتشدد لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، ایران کے پاس ایٹمی بم ہوتا تو وہ ہمارے خلاف استعمال کرتا، ایران اپنے پڑوسیوں پر میزائل حملے کررہا ہے، ایران تباہی کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کی قیادت کرنا چاہتا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا جنگ اس ہفتےختم ہوجائےگی؟ جس پر ٹرمپ نے جواب دیاکہ ابھی کچھ نہیں بتا سکتالیکن جنگ جلد ختم ہوجائےگی۔امریکی صدر نے کہا چین کا دورہ کرنا چاہتاہوں لیکن مجھے امریکا میں موجود رہناپڑےگا، ہم نے درخواست کی ہے کہ چین کا دورہ ایک ماہ کےلیے ملتوی کریں۔یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ؤ نے ایک بار پھر چین، جاپان اور دیگر ملکوں سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ چین کا 90 اور جاپان کا 95 فیصد اورکوریا کا 35 فیصد تیل ہرمز سے گزرتا ہے، چین اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے بحری بیڑے بھیجیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے عالمی اور قومی اثرات تو سامنے آنا باقی ہیں تاہم 17 روز سے جاری جنگ کے دوران ہی امریکی صحافت کی مثالی آزادی پر منفی اثرات کی شکایات سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔صدر ٹرمپ تو اپنی صدارت کی پہلی چار سالہ میعاد سے لیکر اب تک ان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے ممتاز اور مؤثر امریکی میڈیا کو مختلف الزامات اور گھٹیا قرار دیکر اعلانیہ توہین کرتے آرہے ہیں لیکن اب وہ ان صحافیوں پر بھی جملے کستے اور غصہ کا اظہار کرنے لگے ہیں جنہوں نے ماضی میں صدر ٹرمپ کی کھلی حمایت کی تھی۔اس کی ایک منفرد مثال کنزرویٹو اور ٹرمپ کے حامی فاکس ٹی وی کے سا بق ممتاز اینکر ٹکرکارلسن کی مثال ہے جو ماضی میں صدر ٹرمپ کے حامی رہے ہیں اور کنزرویٹو نظریات کے حامی ہونے کے باوجود اس جنگ کو امریکہ کی جنگ ماننے سے انکاری ہیں اور اس جنگ کوایک دوسرے ملک یعنی اسرائیل کی جنگ قرار دے کر صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کرنے کے علاوہ ٹرمپ حکومت کے مختلف پہلو اور اقدامات کو بھی سامنے لارہے ہیں جس کے باعث صدر ٹرمپ ٹکرکارلسن کے طویل وی لاگ اور تنقیدی تبصروں کی امریکی عوام میں مقبولیت سے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔



