Jharkhand

کانگریس اب بی جے پی کا خوف دکھا کر مسلمانوںکاووٹ حا صل نہیں کر سکتی

196views

راہل گاندھی خود کیرل جاکر مسلمانوں اور عیسا ئیو ں کی 98 فیصد آبادی والی سیٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں

جھارکھنڈ میں ایک بھی مسلم امیدوار نہ دئیے جانے سے مسلمان سخت نا راض ہیں

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی 20 اپریل:ملک میں ہو رہے انتخاب کو لے کر جہاں ایک جانب لوگو ں میں کا فی جوش و خروش ہے ، وہیں جھارکھنڈ کے مسلمانوں میں کا فی نا را ضگی اور غصہ ہے۔بی جے پی سے تو خیر کبھی مسلمانو ں کو کو ئی امید رہی ہی نہیں ۔لیکن خود کو سیکولر کہنے والی انڈیا اتحاد نے بھی مسلمانو ں کو بری طر ح مایوس کر دیا ہے ۔یہ اتحاد جھارکھنڈ کی سبھی 14 سیٹ وں پر انتخاب لڑ رہا ہے، لیکن اس اتحاد میں شا مل کسی بھی جما عت نے کسی ایک سیٹ سے بھی کسی مسلم لیڈر کو اپنا امیدوار نہیں بنا یا ہے، جبکہ جھارکھنڈ میں مسلمانو ں کی آبادی کم و بیش 18 فیصد ہے ۔اس کا خمیا زہ لوک سبھا انتخاب میں یقینی طور پر کانگر یس کوبھگتنا پڑے گا۔
جھارکھنڈ کے سابق ممبر پارلیمنٹ فرقان انصاری تک یہ کہنے پر نجبور ہیں کہ مسلمانو ں کو بی جے پی کا خوف دکھا کر ایک مدت تک کا نگریس اور دیگر سیکولر پا رٹیاں مسلمانو ں کا ووٹ حا صل کرتی رہی ہیں۔لیکن اب مودی کے دس سالہ دور اقتدار مسلمانو ں نے دیکھ لیا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس مسلمانو ں کے خلاف جو کچھ بھی کر سکتی تھی کرلیا۔ اب مسلمانوں کیلئے کوب سا ڈر با قی رہ گیاہے۔تین طلاق سے لے کردفعہ 370 اور سی اے اے تک تو کر ڈالا۔ اور سیکولر جما عتیں کچھ بھی نہ کر سکیں۔مسلم لیڈران یہا ں تک کہنے پر مجبور ہیںکہ کانگر یس لیڈر راہل گاندھی خود تو شکست کے خوف سےاتر پر دیش چھوڑ کر کیرل کی ایسی سیٹ سے جاکر انتخاب لڑ رہے ہیںجہاں 98 فیصد آبادی مسلمانوں اور عیسا ئیو ں کی ہے۔پھر کا نگریس پارٹی شکست ا ور بی جے پی کے خوف سے مسلمانو ں کو انتخاب میں امیدوار بنانے سے کیو ں ہچکتی ہے۔۔ فرقان انصاری نے دو ٹو ک کہہ ڈالا ہے کہ کا نگر یس نے 2019 میں جھارکھنڈ میں ایک بھی مسلم امیدوارکو ٹکٹ نہیں دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک آدھ سیٹ کو چھوڑ کر ہر سیٹ پر بی جے پی کا میاب ہو گئی۔ اور اس بار بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ نتیجہ بھی ویسا ہی نکلے گا۔ فرقان انصاری یہ کہنے سے بھی نہیں چو کتے کہ راہل گا ندھی خود دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں کہ جس کی جتنی آبادی اس کی اتنی حصہ داری۔ تب پھر یہ حصہ داری کہا ں ہے۔اس سے تو راہل گاندھی کے اعلانات پر بھرو سہ کرنا نا ممکن ہو تا جا رہا ہے۔ ان کے تمام دعووں اور وعدوں کی اہمیت معدوم ہو تی جا رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلمان نہ تو لاچار ومجبور ہیں ، نہ ہی کسی سے خوفزدہ ہیں، علا قا ئی جما عتو ں کی صورت میں مسلمانو ں کے پا آپشن بھی مو جود ہے۔ اور پچھلے اسمبلی انتخاب میں اپنی اس حکمت عملی کو برو ئے عمل لاکر مسلمانوں نے دکھا دیا ہے کہ وہ آدیبا سیوں کے ساتھ مل کر مضبوط متبادل تیار کر سکتے ہیں۔
اسی دوران گو ڈا پارلیمانی حلقہ سے اطلاع مو صول ہو رہی ہے کہ وہاں دیپیکا پانڈے کو کا نگریس کا امیدوار بنا ئے جانے سے ووٹرو ں اور خا ص کر کا نگریسیو ں میں سخت نا را ضگی ہے۔جانکار بتا تے ہیں کہ گوڈ ا پارلیمانی حلقہ میں تقریباً سا ڑھے پانچ لاکھ مسلم ووٹر ہیں جب کہ سا ڑھے چار لاکھ یادو ووٹر ہیں ، اس کے علاوہ چار لاکھ آدیباسی ووٹر ہیں اور ان سب کا رجحا ن فرقان انصاری کی جانب ہے۔ لگ بھگ 19 لاکھ ووٹرو ں والے گو ڈا پارلیمانی حلقہ میںکا نگریس لیڈروں اور کا رکنو ں میں نا را ضگی اتنی زیا دہ ہے کہ گو ڈا پارلیمانی حلقے میں پڑنے والے تینوں اضلاع میں زیادہ تر کا نگریسی لیڈران اور کارکنان کانگریس اور پارٹی میں اپنے عہدوں سےایک ساتھ اجتماعی استعفیٰ دینے پر غور کر رہے ہیں ۔گو ڈا میں کا نگریس کے ہمدردوں کاکھلے عام کہنا ہے کہ یہا ں کانگریس کمزور امیدوار دے کر بی جے پی کے ساتھ دو ستانہ میچ کھیلنے کی کو شش کر رہی ہے۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.