علاقائی سفارت کاری میں نئی پیش رفت
نئی دہلی۔10؍ مئی۔ ایم این این۔ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری ٹو لامکے حالیہ دورۂ بھارت کو جنوب مشرقی ایشیا اور ہند بحرالکاہل میں بھارت کی بڑھتی ہوئی علاقائی سفارت کاری کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ نئی دہلی اور ہنوئی اپنے تعلقات کو مزید اسٹریٹجک گہرائی دینا چاہتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اور ویتنام کے تعلقات گزشتہ برسوں میں دفاع، سمندری سلامتی، توانائی، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک جنوبی چین سمندر میں آزادیِ جہاز رانی، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور خطے میں طاقت کے توازن کے حامی ہیں۔ٹو لام کا دورہ اس وقت ہوا ہے جب بھارت اپنی “ایکٹ ایسٹ” پالیسی کو مزید فعال بناتے ہوئے آسیان کے ساتھ روابط کو وسعت دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ویتنام اس حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہے، کیونکہ دونوں ممالک چین کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کے تناظر میں قریبی تعاون کو ضروری سمجھتے ہیں۔بھارت اور ویتنام کے درمیان دفاعی تربیت، بحری تعاون، تیل و گیس کی تلاش، اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں اشتراک مسلسل بڑھ رہا ہے۔ نئی دہلی نے ویتنام کی دفاعی صلاحیتوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات بھی وسیع ہو رہے ہیں۔تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹو لام کا دورہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ بھارت کے وسیع تر علاقائی وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت نئی دہلی ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ایشیا میں استحکام، اقتصادی روابط اور اسٹریٹجک توازن کو فروغ دے رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور ویتنام کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مشترکہ مفادات، تاریخی روابط اور باہمی اعتماد مستقبل میں اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے، جس سے ہند بحرالکاہل کے خطے میں امن، خوشحالی اور توازن کو تقویت ملے گی۔








Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594477