ہومJharkhandجھارکھنڈ راجیہ سبھا انتخابات: دو نشستوں پر سیاسی سرگرمیاں تیز، اتحاد کی...

جھارکھنڈ راجیہ سبھا انتخابات: دو نشستوں پر سیاسی سرگرمیاں تیز، اتحاد کی حکمتِ عملی پر سب کی نظریں

بی جے پی کو ایک سیٹ جیتنےکیلئے 4ووٹ کم پڑ رہے ہیں: حکمراں مہاگٹھ بندھن کے پاس 56 اراکین اسمبلی کی مضبوط حمایت حاصل ہے

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 26 مئی (یو این آئی) جھارکھنڈ میں راجیہ سبھا کی دو نشستوں کے لیے سیاسی گہما گہمی میں تیزی آ گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے دفاتر میں مسلسل مشاورت اور میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ریاست کی ایک نشست جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے سرپرست شبو سورین کے انتقال کے بعد خالی ہوئی ہے جبکہ دوسری نشست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما دیپک پرکاش کی مدتِ کار مکمل ہونے کے بعد خالی ہو رہی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پروگرام کے مطابق یکم جون کو انتخابی نوٹیفکیشن جاری ہوگا، جب کہ 8 جون تک کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے جا سکیں گے۔ 11 جون تک نام واپس لینے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ ووٹنگ 18 جون کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی اور اسی روز شام 5 بجے ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ریاستی اسمبلی میں کل 81 اراکین ہیں اور کسی بھی امیدوار کی کامیابی کے لیے 28 ووٹ درکار ہوں گے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکمراں مہاگٹھ بندھن کے پاس 56 اراکین اسمبلی کی مضبوط حمایت حاصل ہے، جن میں جے ایم ایم، کانگریس، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مہاگٹھ بندھن متحد ہو کر انتخاب لڑتا ہے تو دونوں نشستوں پر اس کی کامیابی تقریباً یقینی مانی جا رہی ہے، تاہم صورتحال اس وقت پیچیدہ ہو سکتی ہے جب اتحادی جماعتیں الگ الگ امیدوار میدان میں اتارتی ہیں، کیونکہ اس صورت میں ووٹوں کی تقسیم اتحاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے پاس اس وقت اسمبلی میں 34 نشستیں ہیں، جبکہ دو راجیہ سبھا نشستیں جیتنے کے لیے مجموعی طور پر 56 ووٹ درکار ہوں گے۔ اگر جے ایم ایم دونوں نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرتی ہے تو ایک نشست پر کامیابی یقینی ہوگی، لیکن دوسری نشست کے لیے اسے مزید 22 ووٹوں کی ضرورت پڑے گی، جو حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔جے ایم ایم کے جنرل سکریٹری سپریو بھٹاچاریہ نے کہا کہ دونوں نشستوں پر اتحاد کے مشترکہ امیدوار میدان میں اتریں گے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ اتحاد کی میٹنگ میں کیا جائے گا۔دوسری جانب کانگریس کے پاس اسمبلی میں 16 اراکین ہیں۔ ایک نشست جیتنے کے لیے اسے مزید 12 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ ایسی صورتحال میں اگر کانگریس الگ امیدوار اتارتی ہے تو اتحاد میں اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔کانگریس کے ریاستی انچارج کے راجو نے کہا کہ کانگریس اور جے ایم ایم ایک ایک نشست پر امیدوار کھڑا کرنے کے فارمولے پر غور کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں جلد ہی وزیر اعلیٰ سے بات چیت کی جائے گی۔
این ڈی اے کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 24 ووٹ ہیں جن میں صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 21 اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ ایک امیدوار کی کامیابی کے لیے 28 ووٹ درکار ہیں، اس طرح این ڈی اے کو کم از کم چار اضافی ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر جھارکھنڈ لوک تانترک کرانتی مورچہ (جے ایل کے ایم) کے رکن اسمبلی کی حمایت بھی بی جے پی کو حاصل ہو جائے، تب بھی این ڈی اے مطلوبہ اکثریت سے تین ووٹ پیچھے رہ جائے گا، جس کے باعث انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ ہو سکتا ہے۔پیر کے روز بی جے پی کی انتخابی کمیٹی کی میٹنگ بھی منعقد ہوئی، جس کے بعد پارٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری امر باوری نے واضح طور پر کہا کہ بی جے پی راجیہ سبھا انتخابات میں اپنا امیدوار ضرور میدان میں اتارے گی اور کامیابی بھی حاصل کرے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد دوسری نشست پر مقابلہ مزید سنسنی خیز ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ریاستی اسمبلی کی موجودہ صورتحال حکمراں مہاگٹھ بندھن کے حق میں دکھائی دیتی ہے۔ 81 رکنی اسمبلی میں ایک نشست کے لیے 28 ووٹ ضروری ہیں، جبکہ حکمراں اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 56 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔اس اتحاد میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ (34)، کانگریس (16)، راشٹریہ جنتا دل (4) اور سی پی آئی-ایم ایل (2) شامل ہیں۔ عددی اعتبار سے اگر اتحاد برقرار رہتا ہے تو دونوں نشستوں پر کامیابی نسبتاً آسان مانی جا رہی ہے۔دوسری جانب اپوزیشن کی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہی ہے، تاہم جے ایل کے ایم کے رکن اسمبلی کا رخ اور ممکنہ کراس ووٹنگ مقابلے کا نقشہ بدل سکتی ہے۔اسی دوران جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے معاملے کو لے کر براہِ راست الیکشن کمیشن آف انڈیا سے رجوع کیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری سپریو بھٹاچاریہ نے چیف الیکشن کمشنر کو ایک حساس خط لکھتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی کے پاس مطلوبہ عددی طاقت نہ ہونے کے باوجود امیدوار اتارنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو مبینہ طور پر اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت اور غیر اخلاقی دباؤ ڈالنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان پرتول شاہ دیو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں امیدوار کھڑا کرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بی جے پی امیدوار اتارتی ہے تو جے ایم ایم کو اس میں ’’جمہوریت کے لیے خطرہ‘‘ کیوں نظر آنے لگتا ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ کیا جے ایم ایم کو خود اس بات کا خدشہ ہے کہ اس کے اراکین اسمبلی اپنی مرضی سے بھی پارٹی کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں؟ پرتول شاہ دیو کے مطابق جے ایم ایم کا پورا خط خوف، الجھن اور سیاسی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات