جھارکھنڈ میں مزید 100 ’سی ایم اسکول آف ایکسیلنس ‘ جلد ہوں گے شروع
اساتذہ کو انتظامی کاموں سے دور رکھنے کی ہدایت؛ طالبات کے ڈراپ آؤٹ ریٹ کو کم کرنے پر خصوصی زور
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 26 مئی: جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے آج محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے افسران کو کئی اہم اور دُور رس ہدایات جاری کیں۔ میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ ابتدائی تعلیم اور خواندگی کے میدان میں ریاست نے متعدد شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ اس بار ‘سی ایم اسکول آف ایکسیلنس ‘ کے نتائج انتہائی شاندار رہے ہیں، تاہم انہوں نے دسویں جماعت (میٹرک) کے نتائج کو مزید بہتر اور معیاری بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
تعلیمی نظام کی توسیع اور نئے اسکول
وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی ریاست کے بچے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں جو کہ ایک خوش آئند علامت ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے حکام کو ہدایت دی کہ ریاست میں نئے 100 ‘سی ایم اسکول آف ایکسیلنس ‘ شروع کرنے کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اس جدید تعلیمی نظام سے مستفید ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے رانچی کے جگوار کیمپس میں ‘دشوم گرو جی شبو سورین رہائشی اسکول ‘ کو بھی ترجیحی بنیادوں پر جلد شروع کرنے کا حکم دیا۔
ڈراپ آؤٹ ریٹ میں کمی اور اساتذہ کی تعیناتی
اس اہم جائزہ اجلاس میں اسکولوں میں بچوں کی حاضری برقرار رکھنے اور خاص طور پر طالبات کے اسکول چھوڑنے کی شرح (ڈراپ آؤٹ ریٹ) کو کم کرنے کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے سخت ہدایت دی کہ جن اسکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے (سنگل ٹیچر اسکولز)، وہاں اساتذہ کی تعداد فوری طور پر بڑھائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن (معیاری تعلیم) کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ریاست کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو جلد سے جلد دور کیا جائے گا۔
جدید ٹریننگ اور انتظامی کاموں سے استثنیٰ
وزیراعلیٰ نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے انہیں جدید اور اختراعی طریقوں سے ٹریننگ دینے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ وہ بچوں کو بہتر طریقے سے پڑھا سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلبا کے ذہنی افق کو وسیع کرنے کیلئے انہیں تعلیمی دوروں پر لے جایا جانا چاہیے۔ میٹنگ کا ایک اہم ترین فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعلیٰ نے افسران کو ہدایت دی کہ اساتذہ کو غیر تعلیمی یا انتظامی کاموں کی ذمہ داریوں سے دور رکھا جائے، تاکہ وہ اپنی تمام تر توجہ اور توانائی بچوں کو پڑھانے اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے پر مرکوز کر سکیں۔ جائزہ اجلاس میں ریاست کے مجموعی تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے جڑے کئی دیگر اہم امور پر بھی غور و خوص کیا گیا۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596337