دیہاتیوں اور عوامی نمائندوں کا ڈی سی آفس پر احتجاج؛سومپا میمورنڈم
جدید بھارت نیوز سروس
کھونٹی،26؍مئی: ضلع میں گرام سبھا کی اجازت کے بغیر جاری کیے گئے ریت کی کان کنی کے ٹینڈر کو لے کر دیہاتیوں اور عوامی نمائندوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ تورپا بلاک کے ڈپٹی پرمکھ، گرام پردھان، مکھیا سمیت کئی مقامی عوامی نمائندے بڑی تعداد میں دیہاتیوں کے ساتھ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کے دفتر پہنچے اور میمورنڈم سونپا۔ مظاہرین نے ریت کی کان کنی کے ٹینڈر پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے پیسا (PESA) قانون اور پانچویں شیڈول کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔تحریک میں شامل عوامی نمائندوں نے ضلع انتظامیہ پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ پانچویں شیڈول کے علاقے میں کسی بھی سرکاری اسکیم یا کان کنی کے کام سے پہلے گرام سبھا کی تحریری رضامندی لازمی ہے، لیکن انتظامیہ نے دیہاتیوں کی رائے لیے بغیر ہی ٹینڈر جاری کر دیا۔ گرام سبھا کے صدر ویریندر دھان نے واضح کیا کہ گرام سبھا کی منظوری کے بغیر علاقے سے ریت کی ایک گاڑی بھی اٹھانے نہیں دی جائے گی۔گرام پردھان کلیا منڈا نے ریت کی اسمگلنگ اور غیر قانونی کان کنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جے سی بی اور بڑی گاڑیوں کے ذریعے قوانین کے خلاف ندیوں سے ریت اٹھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی لوگوں کو گھر بنانے کے لیے بھی ریت نہیں مل پا رہی، جبکہ باہر بڑے پیمانے پر سپلائی کی جا رہی ہے۔مقامی خاتون مکھیا اگاتھا بھینگرا اور تورپا بلاک کے ڈپٹی پرمکھ سنتوش کر نے کہا کہ اندھا دھند ریت نکالنے کی وجہ سے علاقے میں پانی کی سطح (واٹر لیول) مسلسل نیچے جا رہی ہے، جس سے کھیتی باڑی متاثر ہو رہی ہے اور ندیوں کا وجود خطرے میں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے پہلے ٹینڈر جاری کیا اور اب گرام سبھا سے رضامندی لینے کا ڈھونگ کر رہی ہے۔ دوسری طرف اس معاملے پر کھونٹی کے ڈی سی محمد جاوید حسین اور مائننگ افسر رام نریش سنگھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں مل سکا۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596335