اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امریکی مطالبے پر سعودی عرب کا دوٹوک جواب
ریاض، 26 مئی:۔ (ایجنسی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مطالبے پر سعودی عرب نے اپنا دو ٹوک مؤقف دہرایا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے سی این این نے سعودی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب کا مؤقف ہمیشہ کی طرح اب بھی بالکل واضح ہے، وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف اسی صورت قائم کرے گا جب آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حتمی فیصلہ ہوگا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بن سکتا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت تمام مسلم ملکوں سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تمام مسلم ملکوں کے لیے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنا لازمی ہے، سعودی عرب اور قطر کو دستخط میں پہل کرنی چاہیے، ایک یا دو ملکوں کے دستخط نہ کرنے کی وجہ قبول کروں گا۔ ٹرمپ کا پاکستان سمیت تمام مسلم ملکوں سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ زیرِ بحث ملکوں میں سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر اور اردن شامل ہیں، جب کہ یو اے ای اور بحرین پہلے ہی ابراہیمی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا اکثریت کو ایران کے ساتھ اس تصفیے کو مزید تاریخی بنانے کے لیے تیار ہونا چاہیے، یہ معاہدہ 5 ہزار سال میں پہلی بار مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن لائے گا، یہ دنیا بھر میں معتبر دستاویز ہوگی۔ ٹرمپ نے کہا اس معاہدے پر دستخط نہ کرنے والے ملکوں کو اس ڈیل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے، ایران جنگ بندی معاہدہ کرے تو اسے ابراہیمی معاہدے کا حصہ بنانا میرے لیے اعزاز ہوگا، اپنے نمائندوں کو مسلم ملکوں کے ساتھ دستخط کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596339