ہومBiharمہاراشٹر اور کرناٹک کے مدرسوں میں پڑھنے کیلئے جا رہے بہار کے...

مہاراشٹر اور کرناٹک کے مدرسوں میں پڑھنے کیلئے جا رہے بہار کے 163 بچوں کا دردناک تجربہ

دو ہفتے حراست میں ، اسمگلنگ کے نام پر ہراساں کرنے کا الزام

پٹنہ، 29 اپریل:۔ (ایجنسی) بہار کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 163 بچوں کے لیے حصولِ تعلیم کا سفر ایک بھیانک خواب میں بدل گیا۔ مہاراشٹر اور کرناٹک کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے روانہ ہونے والے ان بچوں کو انسانی اسمگلنگ کے شبہ میں مدھیہ پردیش کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں اور پناہ گاہوں میں تقریباً دو ہفتے تک قید تنہائی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ اب بچے رہا ہو کر اپنے گھر پہنچ چکے ہیں، لیکن چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (CWC) کی جانب سے ہر 15 دن بعد پیشی کے حکم نے ان کے والدین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

پٹنہ سے کٹنی تک کا سفر اور گرفتاری
ریاست کے پسماندہ سیمانچل اضلاع ارریہ، پورنیہ، کشن گنج اور سپول سے تعلق رکھنے والے 6 سے 15 سال کی عمر کے یہ بچے 11 اپریل کو پٹنہ جنکشن سے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ 8 اساتذہ بھی موجود تھے جو انہیں مہاراشٹر کے ادگیر، ناندیڑ اور کرناٹک کے بیدر میں واقع مدارس لے جا رہے تھے۔ پٹنہ اور پریاگ راج میں ریلوے پولیس نے ان کے تمام دستاویزات کی تصدیق کی اور انہیں آگے جانے کی اجازت دی، لیکن جیسے ہی ٹرین مدھیہ پردیش کے کٹنی جنکشن پہنچی، آر پی ایف اور جی آر پی نے انہیں زبردستی نیچے اتار لیا اور حراست میں لے لیا۔
اساتذہ پر سنگین الزامات اور والدین کا کرب
کٹنی ریلوے پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرتے ہوئے بچوں کے ساتھ موجود اساتذہ پر انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور اغوا جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔ بچوں کو ان کے سرپرستوں سے الگ کر کے سرکاری پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا۔ جب پولیس نے رات گئے ارریہ اور دیگر اضلاع میں والدین کے گھروں پر دستک دی تو وہاں خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ والد محمد آصف نے بتایا کہ ان کا بیٹا پہلے ہی سے مہاراشٹر کے مدرسے میں زیر تعلیم تھا اور صرف چھٹیاں گزار کر واپس جا رہا تھا، لیکن پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور موبائل فون بھی چھین لیے۔
غربت اور تعلیمی نظام کی بے حسی
بہار واپس پہنچنے کے بعد والدین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ غریب مزدور ہیں اور نجی اسکولوں کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری ریاستوں کے مدارس بچوں کے قیام و طعام اور تعلیم کا مفت انتظام کرتے ہیں، اسی لیے وہ اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے پر مجبور ہیں۔ مقامی سی ڈبلیو سی نے بچوں کو والدین کے حوالے تو کر دیا ہے، لیکن یہ شرط رکھی ہے کہ کیس کی حتمی رپورٹ آنے تک انہیں ہر 15 دن بعد پیش ہونا پڑے گا۔ والدین کا سوال ہے کہ وہ مزدوری کریں یا ہر دوسرے ہفتے عدالتوں اور کمیٹیوں کے چکر کاٹیں۔
سماجی تنظیموں کے سوالات اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
سماجی تنظیموں اور ‘سنگت جے جے ‘ کے ارکان نے الزام لگایا ہے کہ موجودہ سیاسی اور فرقہ وارانہ ماحول کی وجہ سے مدارس اور مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جے جے ایس ایس کے سکریٹری آشیش رنجن نے سوال اٹھایا کہ کیا بچوں کو صرف اس لیے روکا گیا کہ وہ اسلامی تعلیم حاصل کرنے جا رہے تھے؟ متاثرہ خاندانوں اور سماجی تنظیموں نے اس پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، ملوث افسران کے خلاف کارروائی اور بچوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں غریب طلبہ کو اس طرح ہراساں نہ کیا جائے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات