International

ہندوستان مالدیپ کے قریب نیا بحری اڈہ کیوں بنا رہا ہے؟

35views

نئی دہلی اور مالے کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بھارت نے مالدیپ کے قریب اپنا ایک نیا بحری اڈہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان مالدیپ کے چین سے بڑھتے ہوئے تعلقات سے سخت ناراض ہے۔ ہندوستانی بحریہ نے کہا کہ ہندوستان کے انتہائی جنوب میں واقع لکش دیپ جزیرے کے منی کوئے پر آئی این ایس جٹایو کے نام سے ایک نیا بحری اڈہ تعمیر کیا جائے گا۔

بھارتی بحریہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے،” اس بحری اڈے کے قیام سے مغربی بحیرہ ہند میں بحری قذاقی اور منشیات کے خلاف بھارتی بحریہ کی کارروائیوں کو زیادہ موثر اور اس کی آپریشنل رسائی میں وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ اس سے خطے میں بھارتی بحریہ کی جانب سے پہلے جواب دہندہ کے طورپر صلاحیت میں اضافہ اور سرزمین کے ساتھ رابطہ میں بھی مدد ملے گی۔”

این آئی اے نے رامیشورم کیفے دھماکے کا مقدمہ درج کیا

بھارتی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ نیا بحری اڈہ اسٹریٹیجک لحاظ سے اہمیت کے حامل جزائر کے سکیورٹی انفراسٹرکچر میں اضافے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اور اس کے تفصیلی منصوبے کا اعلان اگلے چند دنوں میں جاری کردیا جائے گا۔ خیال رہے کہ لکشد یپ کے کاواراتی جزیرے پر بھارت کا ایک اور بحری اڈہ آئی این ایس دویپ رکشک پہلے سے ہی موجود ہے۔

مالدیپ سے ناراضگی کا سبب

گزشتہ برس محمد معیزو کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی مالدیپ اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد محمد معیزو نے روایتی طورپر بھارت کا دورہ کرنے سے قبل سب سے پہلے چین کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے کہا تھا کہ چھوٹا ملک ہونے کی وجہ سے کسی کو مالدیپ پر دھونس جمانے کا لائسنس نہیں مل جاتا ہے۔

دراصل اس سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے لکش دیپ میں اپنے دورے کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لوگوں سے اس جزیرے کی سیاحت کو ترجیح دینے کی اپیل کی تھی۔ اس پر مالدیپ کے تین نائب وزراء نے وزیر اعظم مودی کے خلاف نازیبا بیانات دیے تھے۔ جس پر بھارت میں سوشل میڈیا پر مالدیپ کی سیاحت کو بائیکاٹ کی مہم شروع کردی گئی۔

فروری میں صدر معیزو نے بھارت سے کہا کہ وہ اپنے فوجی اہلکاروں کو مالدیپ سے واپس بلالے۔ مالدیپ میں تقریباً 75بھارتی فوجی مختلف سرگرمیوں میں شامل ہیں، جن میں سمندروں میں پھنسے لوگوں کو بچانے اور دور افتادہ جزائر سے مریضوں کو جہازوں کے ذریعہ ہسپتالوں میں پہنچانے کے کام شامل ہیں۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.