آسنسول : اسمبلی انتخابات سے پہلے آسنسول شمالی اسمبلی حلقہ میں ووٹر لسٹ کو لے کر بڑا تنازع سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ایک ہی شخص کے نام، تصویر اور پتے پر ایک سے زیادہ ووٹر کارڈ (EPIC نمبر) درج ہیں، جس سے سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق، پارٹ نمبر 171 کی ووٹر لسٹ میں کچھ نام ایسے ملے ہیں جہاں ایک ہی شخص کے کئی ای پی آئی سی نمبر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، روی چودھری نام کے ووٹر کے نام پر چار مختلف ای پی آئی سی نمبر درج ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ آیوش کمار سنگھ کے نام پر بھی دو الگ نمبر پائے گئے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد ووٹر لسٹ کی شفافیت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ترنمول کانگریس کے لیڈر دیبانگشو بھٹاچاریہ نے اس معاملے کو سوشل میڈیا پر اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ اگر ایک ہی شخص کا نام کئی بار آ رہا ہے تو پھر جانچ کا نظام کہاں ہے؟ پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے ہیں۔
بلاک ترنمول صدر گروداس چٹرجی نے الزام لگایا کہ یہ بی جے پی کی سازش ہے تاکہ جعلی ووٹروں کے ذریعے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی غلطی جانچ کے بعد بھی کیسے رہ گئی، یہ ایک بڑا سوال ہے۔دوسری جانب بی جے پی امیدوار کرشنندو مکھرجی نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سسٹم یا تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں اس طرح کی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اور انہیں درست کیا جا سکتا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات سے عین قبل اس طرح کے الزامات ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں کیا قدم اٹھاتا ہے اور ووٹر لسٹ کی شفافیت کو کیسے یقینی بناتا ہے۔
آسنسول میں جعلی ووٹر کا ہنگامہ؛ایک ہی شخص کے کئی EPIC نمبر
مقالات ذات صلة



