ہومNationalبجٹ اجلاس مکمل، لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے...

بجٹ اجلاس مکمل، لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

بجٹ اجلاس تاریخی رہا، کانگریس پر خواتین مخالف ہونے کا انمٹ داغ لگ گیا: ریجیجو

نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا ہے کہ ہفتہ کو ختم ہوا بجٹ اجلاس تاریخی رہا ہے، لیکن اس اجلاس میں کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں پر خواتین مخالف ہونے کا جو داغ لگا ہے وہ کبھی نہیں مٹے گا اور مشتعل ملک کی خواتین اپنے حقوق چھیننے پر ان جماعتوں کو کبھی معاف نہیں کریں گی مسٹر ریجیجو نے آج یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 16 اپریل سے شروع ہوئے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے تین روزہ توسیعی اجلاس میں ‘ناری وندن ادھینیم،(خواتین ریزرویشن بل) لایا گیا تھا، لیکن دو دن تک جاری رہنے والی بحث کے بعد کانگریس اور انڈیا اتحاد کی دیگر جماعتوں کے خواتین مخالف رویے کی وجہ سے اسے منظور نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے اس بل کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن جماعتوں پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ کانگریس کے ساتھ ساتھ جو بھی سیاسی جماعتیں خواتین کے حقوق چھیننے کے لیے اس بل کے خلاف کھڑی ہوئیں، انہیں ملک کی خواتین کبھی معاف نہیں کریں گی کیونکہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے یہ بہت بڑا گناہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بجٹ سیشن کا آخری دن تھا اور پورے بجٹ سیشن کے 81 دنوں کی مدت میں ایوان کی کل 31 نشستیں ہوئیں۔ 28 جنوری سے شروع ہونے والے اس سیشن کے آخری دن 18 اپریل تک اس کی کارکردگی (پروڈکٹیویٹی) تاریخی رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد بجٹ سیشن میں مرکزی بجٹ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف وزارتوں اور محکموں سے متعلق مطالبات زر پر بحث کی گئی اور فنانس بل منظور کیا گیا۔ سیشن کا پہلا مرحلہ 13 فروری تک چلا اور دوسرا 9 مارچ کو شروع ہوا اور 2 اپریل تک جاری رہا۔ سیشن کا توسیعی تین روزہ اجلاس 16 اپریل سے شروع ہو کر آج ختم ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ اس سیشن کے دوران وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بیانات دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سیشن تاریخی رہا ہے، اس دوران ملک سے بائیں بازو کی انتہا پسندی کو ختم کرنے کا پارلیمنٹ میں اعلان ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں بھی تقریباً امن ہے اور شمال مشرقی ریاست منی پور میں داخلی وجوہات کی بنا پر ماحول میں کچھ خرابیوں کے علاوہ پورے ملک میں امن کا ماحول ہے، جو کہ حکومتِ ہندوستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ان کی اکثریت ہے، لیکن آئینی ترمیمی بل کے لیے ضروری دو تہائی اکثریت ان کے پاس نہیں تھی، اس لیے یہ بل لوک سبھا میں پاس نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کی دفعات کو نافذ کرنے والا بل بھی اپوزیشن کے خواتین مخالف ہونے کی وجہ سے منظور نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیمی بل مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے گر گیا۔ اس بل کے ساتھ دو دیگر بل بھی منسلک تھے اور اب وہ دونوں بل لوک سبھا کی ملکیت بن گئے ہیں۔انہوں نے کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے اور اس سے متعلق آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں پاس نہیں ہو سکا، تو کانگریس کا اس پر جشن منانا شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں مستقبل میں جو بھی مناسب قدم ہوگا وہ اٹھایا جائے گا، لیکن کانگریس کے تئیں ملک بھر کی خواتین میں جو غصہ ہے، اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔مسٹر ریجیجو نے کہا کہ کل پارلیمنٹ میں کانگریس کی پول کھل گئی ہے۔ یہ واضح ہو گیا ہے کہ کانگریس خواتین مخالف ہے اور اسی لیے اس نے خواتین کو لوک سبھا اور اسمبلیوں میں ریزرویشن دینے سے متعلق بل پاس نہیں ہونے دیا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اس بل کو لانے سے پہلے کانگریس اور دیگر جماعتوں سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی، تو انہوں نے کہا کہ بار بار میٹنگوں میں بلایا گیا لیکن کانگریس نہیں آتی تھی اور صرف خط لکھتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کانگریس کی سوچ خواتین مخالف ہے۔
لوک سبھا کا بجٹ اجلاس، جو 28 جنوری کو شروع ہوا تھا، ہفتہ کے روز اختتام کو پہنچا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کارروائی ملتوی کرنے سے قبل بتایا کہ 18 ویں لوک سبھا کے اس ساتویں سیشن کا آغاز 28 جنوری کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ خطاب سے ہوا تھا اس سیشن کے دوران کل 31 نشستیں ہوئیں اور 151 گھنٹے 42 منٹ تک کام کاج ہوا۔انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے یکم فروری کو مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا۔ اس بجٹ پر عام بحث تقریباً 13 گھنٹے تک جاری رہی، جس میں 63 اراکین نے حصہ لیا۔ سیشن کے دوران قانون سازی کے محاذ پر بھی نمایاں پیش رفت ہوئی، جہاں 12 سرکاری بل پیش کیے گئے اور 9 بل منظور کیے گئے۔ جن میں صنعتی تعلقات ضابطہ (ترمیمی) بل 2026، ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے تحفظ کا ترمیمی بل 2026، فنانس بل 2026، دیوالیہ پن و نادہندگی ضابطہ (ترمیمی) بل 2026، آندھرا پردیش تنظیم نو (ترمیمی) بل 2026، جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل 2026 اور مرکزی مسلح پولیس فورس (عمومی انتظام) بل 2026 شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئینی و قانونی امور کے حوالے سے 131ویں آئینی ترمیمی بل، یونین ٹیریٹری قانون (ترمیمی) بل اور حد بندی (ڈی لیمٹیشن) بل 2026 پر 16 اور 17 اپریل کو 21 گھنٹے 27 منٹ تک بحث ہوئی، جس میں 131 ارکان نے حصہ لیا، تاہم آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہو سکا۔دیگر اہم پارلیمانی سرگرمیوں کے تحت 23 مارچ 2026 کو وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے تنازعہ اور ہندوستان کو درپیش چیلنجوں پر ایوان میں بیان دیا، جبکہ سیشن کے دوران 126 اسٹارڈ سوالات کے زبانی جوابات دیے گئے اور وقفہ صفر میں عوامی اہمیت کے 326 معاملات اٹھائے گئے۔ 30 مارچ کو ملک کو بائیں بازو کی انتہا پسندی سے پاک کرنے کی کوششوں پر مختصر بحث ہوئی، جس کا جواب وزیر داخلہ نے دیا، جب کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں نے 73 رپورٹیں پیش کیں اور مجموعی طور پر 2089 دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے گئے۔لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے سیشن کے دوران تعاون کے لیے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات