رائٹرز بلڈنگ سے چلے گی سرکار، وزیر اعلیٰ کا دفتر کہاں ہوگا؟
کولکاتہ: مغربی بنگال میں نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری زور و شور سے شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ریاست کی حکومت نبنّا سے نہیں بلکہ تاریخی رائٹرز بلڈنگ (مہاکرن) سے چلائی جائے گی، جس کے لیے تیزی سے منصوبہ بندی جاری ہے۔ذرائع کے مطابق9 مئی کو نئی حکومت کی حلف برداری متوقع ہے، جو کولکاتہ کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی رائٹرز بلڈنگ کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نئے وزیر اعلیٰ کہاں بیٹھیں گے، کابینہ کے دیگر وزراء کے دفاتر کہاں ہوں گے—ان تمام پہلوؤں پر باقاعدہ خاکہ تیار کیا جا رہا ہے۔پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو عمارت کا مکمل معائنہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ پولیس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات پر بھی اعلیٰ سطح کی میٹنگ ہونے والی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ عمارت کے سامنے والے حصے کو وزیر اعلیٰ کے دفتر کے طور پر تیار کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، اور مختلف حصوں کو جدید دفتری ضروریات کے مطابق ڈھالنے کا کام شروع ہو چکا ہے۔بی جے پی کے ریاستی صدر سکانتا مجمداریا شمک بھٹاچاریہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ نئی حکومت رائٹرز بلڈنگ سے ہی کام کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پہلے سے طے تھا اور اب اسے عملی شکل دی جا رہی ہے۔دوسری جانب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی کولکاتہ پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ نو منتخب ایم ایل ایز کے ساتھ اہم میٹنگ کریں گے اور وزیر اعلیٰ کے نام پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس عمل میں وہ خود براہ راست حصہ لے رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنگال کی سیاست اس وقت قومی سطح پر کتنی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔مجموعی طور پر، بنگال میں نہ صرف حکومت بدلی ہے بلکہ اقتدار چلانے کے طریقے اور مقام میں بھی بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملنے والی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے۔
نوانو میں بدلاؤ کی گونج
کولکاتہ: مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے فوراً بعد ریاست کے سب سے اہم انتظامی مرکز نوا نو میں غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملا۔ منگل کے روز یہاں سرکاری ملازمین کے ایک حصے نے کھل کر جشن منایا اور عمارت کے اندر ’جے شری رام‘ اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے گونجنے لگے۔یہ سب اُس وقت ہوا جب اسمبلی انتخابات کے نتائج میں بی جے پی نے 200 سے زائد نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی اور ریاست میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی۔ اقتدار کی اس بڑی تبدیلی کے ساتھ ہی نبنّا کے اندر ماحول بھی یکدم بدلتا ہوا نظر آیا۔عینی شاہدین کے مطابق، کچھ ملازمین نے زعفرانی گلال کے ساتھ ہولی کھیلی، خوشی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کو رنگ لگا کر جشن منایا۔ اس دوران خواتین اور مرد دونوں شامل تھے، جس سے پورے دفتر میں میلے جیسا ماحول بن گیا۔کچھ ملازمین نے دعویٰ کیا کہ پہلے ہم ڈر کے ماحول میں کام کرتے تھے، لیکن اب ہمیں آزادی محسوس ہو رہی ہے۔ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کو وہ ایک بڑے بدلاؤ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔تاہم اس واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ سرکاری دفاتر میں اس طرح کے نعرے اور جشن کو لے کر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا انتظامی نظام کو غیر جانبدار رہنا چاہیے یا نہیں۔مجموعی طور پر، نوانوکا یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ بنگال میں صرف حکومت ہی نہیں بدلی بلکہ ماحول اور فضا بھی تیزی سے بدل رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594024