وزیر اعلیٰ نے الیکشن کمیشن سے تیکھا سوال کیا
بی جے پی کے لیے الگ اور ترنمول کے لیے الگ قانون کیوں؟
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ :مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل گاڑیوں کی تلاشی کے معاملے پر سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور اب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود اس معاملے پر کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ اسلام پور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ صرف ترنمول کانگریس کے رہنماؤں کو نشانہ بنا کر ان کی گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے، جبکہ بی جے پی کے بڑے لیڈروں کو اس سے استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ترنمول کے تمام رہنماؤں کی گاڑیوں کی تلاشی ہو سکتی ہے تو پھر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی گاڑیوں کی جانچ کیوں نہیں کی جاتی؟ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بدھ کے روز دم دم ایئرپورٹ پر مرکزی فورسز ان کی گاڑی کے قریب پہنچیں اور تلاشی لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود فورسز سے کہا کہ اگر چیک کرنا ہے تو کھل کر کریں، انہیں اس سے کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ وہ بی جے پی کی طرح چور یا ڈاکو نہیں بلکہ عوامی خدمت کرنے والی سیاست دان ہیں۔ ممتا نے مزید کہا کہ اگر الیکشن واقعی غیر جانبدارانہ کرانے ہیں تو پھر ہر پارٹی کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے اور صرف اپوزیشن کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بی جے پی پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مرکزی رہنماؤں کی گاڑیوں اور مرکزی فورسز کے ذریعے پیسے لائے جا رہے ہیں، اور انہیں اس بارے میں سب معلوم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے الیکشن کمیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر کمیشن میں ہمت ہے تو وہ روزانہ ان کی گاڑی کی تلاشی لے سکتا ہے، مگر سب کے ساتھ برابر کا برتاؤ ہونا چاہیے۔ یہ تنازع دراصل اس وقت شروع ہوا جب منگل کو ترنمول کانگریس نے ایک مبینہ واٹس ایپ پیغام منظر عام پر لایا، جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ترنمول کے آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی اور ان کی اہلیہ کی گاڑیوں کی تلاشی لینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا اور ابھیشیک بنرجی نے بھی اس معاملے میں قانونی کارروائی کرنے کا انتباہ دیا۔ ممتا بنرجی کے تازہ بیان نے اس تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ریاست کی انتخابی سیاست کا بڑا موضوع بن سکتا ہے۔



