National

سورت لوک سبھا سیٹ پر از سر نو انتخاب کرانے کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل، بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے بی جے پی امیدوار

106views

 گجرات کی سورت لوک سبھا سیٹ پر بی جے پی امیدوار مکیش دلال کو بلامقابلہ فتحیاب قرار دیا جا چکا ہے، لیکن اس جیت پر تنازعہ ہنوز جاری ہے۔ سورت میں از سر نو انتخاب کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک عرضی آج سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔ اس کے لیے ووٹرس کے ’نوٹا‘ (درج بالا میں سے کوئی نہیں) متبادل پر ووٹ دینے کے حق کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

دراصل سورت لوک سبھا سیٹ پر کانگریس امیدوار نلیش کمبھانی کا پرچۂ نامزدگی الیکٹورل افسران کے ذریعہ خارج کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد دیگر امیدواروں نے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ نتیجہ کار صرف بی جے پی امیدوار مکیش دلال انتخابی میدان میں رہ گئے تھے، جس کو دیکھتے ہوئے انھیں فاتح قرار دے دیا گیا۔ سپریم کورٹ میں جو عرضی داخل کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ عوام کے پاس ’نوٹا‘ کو ووٹ دینے کا متبادل موجود تھا۔ الیکشن کمیشن نے جس طرح مکیش دلال کو بلامقابلہ فاتح قرار دیا، اس سے ووٹرس کا ’نوٹا‘ کو چننے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ سے گزارش کی گئی ہے کہ ’نوٹا‘ متبادل کی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے انتخابی کمیشن کو سورت میں از سر نو انتخاب کرانے کا حکم دیا جائے۔

عرضی دہندہ پرتاپ چندر نے ایک ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں ووٹرس کو ان کے کسی بھی متبادل سے محروم رکھنا جمہوری اقدار کی بے عزتی ہے۔ یہ ووٹرس کے حقوق کی ناقدری بھی ہے۔ چونکہ سورت لوک سبھا سیٹ پر انتخاب کروائے بغیر ہی بی جے پی امیدوار کو بلامقابلہ منتخب قرار دیا گیا، یہ ووٹرس سے ’نوٹا‘ متبادل کو چھیننے جیسا ہے جو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اس معاملے میں سپریم کورٹ کے وکیل اشونی کمار دوبے کا کہنا ہے کہ ابھی تک صرف ایک امیدوار کے میدان میں رہ جانے پر اسے بلامقابلہ منتخب کرنے کا نظام رہا ہے۔ نوٹا کا متبادل آنے کے بعد یہ ہر ووٹر کا آئینی حق بن گیا ہے۔ اس ضمن میں ابھی تک کوئی نظام نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں الیکشن کمیشن سے اس کا نظریہ جاننے کے لیے نوٹس جاری کر چکا ہے۔ ایسے میں اس ایشو پر سپریم کورٹ کے ذریعہ نیا نظام طے کیے جانے پر ہی اس معاملے میں وضاحت ہو پائے گی۔

Follow us on Google News
Jadeed Bharat
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.