National

’چندے کے دھندے کی قلعی کھلنے والی ہے!‘ الیکٹورل بانڈ معاملے میں راہل گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ

68views

الیکٹورل بانڈ معاملے میں سپریم کورٹ نے ایس بی آئی کو آج پھٹکار لگائی ہے اور ہدایت دی ہے کہ 12 مارچ تک الیکٹورل بانڈ کی مکمل تفصیل پیش کی جائے۔ عدالت عظمیٰ کی اس ہدایت کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی کے ’چندے کے دھندے‘ کی قلعی کھلنے والی ہے!‘‘

नरेंद्र मोदी के ‘चंदे के धंधे’ की पोल खुलने वाली है!

100 दिन में स्विस बैंक से काला धन लाने का वायदा कर सत्ता में आई सरकार अपने ही बैंक का डेटा छिपाने के लिए सुप्रीम कोर्ट में सिर के बल खड़ी हो गई।

Electoral Bonds भारतीय इतिहास का सबसे बड़ा घोटाला साबित होने जा रहा है, जो…

— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) March 11, 2024

’ایکس‘ پر کیے گئے اپنے پوسٹ میں راہل گاندھی لکھتے ہیں کہ ’’100 دن میں سوئس بینک سے بلیک منی لانے کا وعدہ کر اقتدار میں آئی حکومت اپنے ہی بینک کا ڈاٹا چھپانے کے لیے سپریم کورٹ میں سر کے بَل کھڑی ہو گئی۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’الیکٹورل بانڈس ہندوستانی تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ ثابت ہونے جا رہا ہے، جو بدعنوان صنعت کاروں اور حکومت کے نیکسس کی قلعی کھول کر نریندر مودی کا اصل چہرہ ملک کے سامنے لے کر آئے گا۔‘‘

الیکٹورل بانڈ معاملہ: ایس بی آئی کو سپریم کورٹ نے لگائی پھٹکار، 12 مارچ تک تفصیلات دینے کا حکم

اپنے پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’کرونولوجی واضح ہے- چندہ دو- دھندا لو، چندہ دو-پروٹیکشن لو! چندہ دینے والوں پر رحم کی بارش اور عوام پر ٹیکس کی مار، یہی ہے بی جے پی کی مودی سرکار۔‘‘

The Supreme Court has once again come to protect Indian democracy from the devious machinations of this regime.

It was laughable for the SBI to seek an extension on a simple 1 day job. The fact is that the government is scared of all their skeletons tumbling out of the closet.… https://t.co/bxGMxNpTqB

— K C Venugopal (@kcvenugopalmp) March 11, 2024

کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بھی اس تعلق سے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’سپریم کورٹ ایک بار پھر ہندوستانی جمہوریت کو اس (مودی) حکومت کی سازشوں سے بچانے کے لیے آگے آیا ہے۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ایس بی آئی کے ذریعہ ایک دن کے معمولی سے کام کے لیے وقت بڑھانے کا مطالبہ کرنا مضحکہ خیز تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ حکومت کو خوف ہے کہ ان کے سارے راز سامنے آ جائیں گے۔‘‘ وینوگوپال یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’سپریم کورٹ کے ذریعہ مصدقہ یہ ’مہا بدعنوانی‘ کا معاملہ بی جے پی اور اس کے بدعنوان کارپوریٹ متروں کے درمیان ناپاک سانٹھ گانٹھ کو ظاہر کرے گا۔‘‘

Follow us on Google News