National

نفرت پر مبنی ٹی وی نشریات کے خلاف این بی ڈی ایس اے کی کارروائی مثبت لیکن ناکافی قدم: مولانا محمود اسعد مدنی

49views

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (این بی ڈی ایس اے) کی طرف سے ٹی وی چینلوں کے خلاف اٹھائے گئے حالیہ اقدامات کو ان حقائق پر مہر لگانے سے تعبیر کیا ہے جن کی طرف عرصے سے جمعیۃ علماء ہند اور ملک کی دوسری باشعور جماعتیں سرکار کو متوجہ کرتی رہی ہیں۔ لیکن سیاسی مفادات کو ملک پر فوقیت دیتے ہوئے ایسے پروگراموں کو نہ صرف چلنے دیا گیا بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔

افغانستان کو شکست دے کر آئرلینڈ نے حاصل کی پہلی ٹیسٹ فتح، ہندوستان اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کو پیچھے چھوڑا

واضح رہے کہ 28 فروری کو منعقد ایک اہم میٹنگ میں معزز جسٹس (ریٹائرڈ) اے کے سیکری کی صدارت میں این بی ڈی ایس اینے ضابطہ اخلاق اور نشریاتی معیار کی سنگین خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی وی چینل نو بھارت ٹائمس، نیوز 18 ہندی اور آج تک سے گزشتہ دو سالوں میں ’مسلم مخالف‘ نشر ہونے والی ویڈیوز ہٹانے کی ہدایات جاری کی ہیں اور نسلی و مذہبی ہم آہنگی سے متعلق مخصوص رہنما اصول کو ظاہر کرتے ہوئے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

مودی حکومت ’میک ان انڈیا‘ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ناکام، کانگریس صدر کھڑگے کا وزیر اعظم مودی پر حملہ

مولانا محمود مدنی نے این بی ڈی ایس اے کے اقدام کو ذمہ دارانہ صحافت کی طرف ایک مثبت قدم سے تعبیر کیا ہے۔ تاہم انھو ں نے کہا کہ صرف اس قدر کارروائی اطمینان بخش نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سزا کی نوعیت اور جرمانہ کی مقدار کافی کم ہے، دوسری بات یہ کہ صرف فیصلہ سنانا کافی نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ مستقبل میں ایسے اینکروں اور ٹی چینلوں پر کڑی نگاہ رکھنے کے لیے ایک علیحدہ کمیٹی تشکیل دی جائے اور کسی کی شکایت کا انتظار کیے بغیر از خود نوٹس لے کر کارروائی کی جائے۔

پی ایم مودی پھر وارانسی سے لڑیں گے لوک سبھا انتخاب، یوپی کی 50 دیگر سیٹوں پر بھی امیدوار کا اعلان، دیکھیے فہرست

مولانا مدنی نے کہا کہ میڈیا پلیٹ فارمز کو کسی بھی مخصوص کمیونٹی کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے لیے صاف طور پر جوابدہ بنایا جانا ضروری ہے۔ بالخصوص ان اینکروں کو برطرف کیا جائے جو لگاتار ایک کمیونٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جن ٹی وی اینکروں کی نشاندہی کی گئی ہے وہ 10 سال سے نفرتی شوز کر رہے ہیں، ان پر ماضی میں بھی جرمانہ عائد کیا گیا ہے، لیکن وہ باز نہیں آئے اور کسی بھی جزوی واقعہ کو ایک کمیونٹی سے وابستہ کرنے کی شرارت پر مصر ہیں۔ یہی روش شردھا واکر قتل میں اختیار کی گئی، جس کو ٹی وی اینکر نے ’لو جہاد‘ جیسے مفروضہ کا نام دے کر ملک میں ہندو مسلم کے درمیان گھناؤنی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی۔ این بی ڈی ایس اے نے یہ بات بجا کہی ہے کہ اس طرح کے دقیانوسی اور خود ساختہ تصورات سیکولر تانے بانے کو خراب کر سکتے ہیں اور ایک خاص کمیونٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مولانا محمود مدنی نے اس تناظر میں زور دیا کہ ہمیں فرقہ وارانہ مسائل میں زیادہ حساسیت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، تاکہ متنوع معاشرے میں بدامنی پرورش نہ پائے۔

Follow us on Google News