محض شاعری پوسٹ کرنا نفرت انگیزی یا عوامی شرپسندی کے زمرے میں نہیں آتا
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ٹیچر کے خلاف درج FIR منسوخ کر دی
جبل پور، 09 مئی:۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واٹس ایپ پر اردو نظم شیئر کرنے پر ایک سرکاری اسکول کے ٹیچر کے خلاف درج ایف آئی آر (FIR) کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے مشاہدے میں واضح کیا کہ نفرت یا تشدد پر اکسانے کے کسی واضح ارادے کے بغیر محض ایک نظم پوسٹ کرنا، سماجی دشمنی کو فروغ دینے یا عوامی شرپسندی کے زمرے میں نہیں آتا۔ جسٹس بی پی شرما کی بنچ نے قرار دیا کہ تقریر سے متعلق مجرمانہ جرائم کی بنیاد شخصی تصورات پر نہیں رکھی جا سکتی۔
پاکستانی شاعر کی نظم اور پولیس کی کارروائی
یہ کیس ٹیچر فیضان انصاری کی جانب سے 22 جولائی 2025 کو واٹس ایپ اسٹیٹس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے پاکستانی شاعر شعیب کینی کی لکھی ہوئی اردو نظم “بے حیا” شیئر کی تھی، جس کے بعد پولیس نے ان کا موبائل فون ضبط کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ یہ نظم قابلِ اعتراض اور زن بیزاری پر مبنی ہے جو ایک استاد کے عہدے کے منافی ہے۔ فیضان انصاری نے ان الزامات کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور پولیس ہراسانی کی شکایت بھی کی تھی۔
عدالت کی جانب سے دفعہ 353(2) کی تشریح
سماعت کے دوران عدالت نے اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا کہ آیا کسی اضافی تبصرے یا اشتعال انگیزی کے بغیر صرف شعری کلام پوسٹ کرنا ‘بھارتیہ نیائے سنہتا ‘ (BNS) کی دفعہ 353(2) کے تحت مجرمانہ فعل ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ مذکورہ نظم اردو ادب کے ہندوستانی پلیٹ فارمز پر پہلے ہی عوامی سطح پر دستیاب ہے اور اسے بین الاقوامی مشاعروں میں بھی پڑھا جا چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر ایسا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی جس سے یہ ثابت ہو کہ اس پوسٹ سے معاشرے میں دشمنی پھیلی یا امن و امان میں خلل پڑا ہو۔
مذہب یا برادری کا کوئی حوالہ موجود نہیں
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں زور دے کر کہا کہ نظم کا مجموعی مطالعہ کرنے سے یہ کہیں سے بھی توہین آمیز معلوم نہیں ہوتی۔ عدالت کے مطابق نظم میں کسی مذہب، فرقے یا برادری کا براہِ راست یا بالواسطہ کوئی حوالہ موجود نہیں ہے، لہٰذا اسے نفرت انگیز تقریر (Hate Speech) کے طور پر تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی نظم یا تحریر کو مجرمانہ قرار دینے کے لیے تشدد یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے ارادے کا واضح ثبوت ہونا ضروری ہے۔
عدالتی احکامات اور ٹیچر کو تحفظ کی ہدایت
عدالت نے فیضان انصاری کے خلاف درج ایف آئی آر اور تمام متعلقہ قانونی کارروائیوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ٹیچر کو ان کا ضبط شدہ موبائل فون فوری واپس کریں اور اگر ضرورت پڑے تو انہیں مناسب تحفظ بھی فراہم کیا جائے۔ اس فیصلے کو قانونی حلقوں میں آزادی اظہارِ رائے اور اردو ادب کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔
