ہومNationalسپریم کورٹ نے ایس آئی آر کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا

سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

اسے منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری قرار دیا

نئی دہلی، 27 مئی (یو این آئی)سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں پر ‘خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے بدھ کے روز کہا کہ یہ عمل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 324، عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور اس کے تحت وضع کردہ قوانین کے مطابق، الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر کرانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیہ باگچی پر مشتمل بینچ نے ان درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا، جن میں الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ برس جون میں بہار میں ایس آئی آر کرانے سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ جب قانون خود الیکشن کمیشن کو کسی بھی وقت خصوصی نظرثانی کا اختیار دیتا ہے، تو محض اس بنیاد پر اس عمل کو غیر قانونی نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ یہ باقاعدہ نظرثانی کے عام طریقۂ کار کے ہر پہلو پر پوری طرح عمل نہیں کرتا۔سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا ، “ہماری سوچی سمجھی رائے میں، یہ متنازع ایس آئی آر ‘عوامی نمائندگی ایکٹ اور اس کے قوانین کی جگہ نہیں لیتا، بلکہ یہ دفعہ 21(3) کے تحت طے شدہ قانونی حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے آرٹیکل 324 کے تحت دیے گئے آئینی مینڈیٹ کو نئی زندگی دیتا ہے۔ لہٰذا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کمیشن نے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کر کے کوئی کام کیا ہے۔”عدالتِ عظمیٰ نے مزید کہا کہ ایس آئی آر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی آئینی ضرورت کو آگے بڑھاتا ہے۔ عدالت کے مطابق، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات محض پولنگ کے عمل تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کی اصل بنیاد ووٹر لسٹ کی درستگی اور معتبریت پر ہوتی ہے، جو کہ جمہوری عمل کی بنیاد ہے۔بینچ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد کہا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹ کی تیاری یا ترمیم کے عمل کے دوران شہریت سے متعلق سوالات کی جانچ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ ایسی جانچ صرف ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا ہٹانے کے محدود مقصد کے لیے ہی کی جا سکتی ہے، اور اس عمل کے دوران اس ووٹر کے حق میں موجود مفروضے کا احترام کیا جانا چاہیے جس کا نام پہلے ہی ووٹر لسٹ میں درج ہے۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن صرف انتخابی مقاصد کے لیے دستیاب مواد کا جائزہ لے کر ہی کوئی فیصلہ کر سکتا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.