بی جے پی نے جلد انتخابات کی پیش گوئی کردی
بنگلورو، 27 مئی (یو این آئی) کرناٹک بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی صدر بی وائی وجیندر نے ریاست میں سیاسی بحران کے گہرے ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے جلد اسمبلی انتخابات کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے برسراقتدار کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اندرونی اختلافات اور اقتدار کی رسہ کشی کا شکار ہو چکی ہے۔وجیندر نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان جاری اقتدار کی جنگ نے ریاستی انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے اقتدار بچانے پر مرکوز ہے، جس سے انتظامی استحکام کمزور پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی میں کانگریس قیادت کی مسلسل میٹنگیں، کابینہ میں ممکنہ رد و بدل اور قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکمراں جماعت کے اندر شدید سیاسی بے چینی پائی جارہی ہے۔ادھر کانگریس نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مکمل طور پر مستحکم ہے اور قیادت کی تبدیلی سے متعلق تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ ریاست میں جلد کوئی بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آسکتی ہے۔اس دوران بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیراعلیٰ بسوراج بومئی نے خبردار کیا کہ اگر سدارامیا کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تو اس کے دور رس سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سدارامیا ریاست کے ایک اہم او بی سی رہنما ہیں اور ان کی برطرفی پسماندہ طبقات کو غلط پیغام دے سکتی ہے۔بومئی نے مزید کہا کہ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ نہ صرف کانگریس بلکہ انڈیا اتحاد کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر یہ فیصلہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً راہل گاندھی کی منظوری سے کیا گیا تو او بی سی نمائندگی کے تئیں کانگریس کی سنجیدگی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
