حکومتِ ہند بین الاقوامی سرحدوں پر اعلیٰ ترین معیار کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ امت شاہ
بیکانیر۔27؍ مئی۔ ایم این این۔امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے راجستھان کے بیکانیر میں ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں بھارت-پاکستان سرحد (آئی پی بی) کے ساتھ واقع سرحدی اضلاع سے متعلق سکیورٹی امور کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ، ریاستی حکومت کے سینئرافسران، اور پانچ سرحدی اضلاع—بیکانیر، جیسلمیر، بامیڑ، سری گنگانگر اور پھلودی—کے ضلعی مجسٹریٹوں اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے شرکت کی۔اجلاس میں سرحدی انتظام کو مزید مؤثر اور جامع بنانے، اور ریاستی حکومت کے ساتھ بہتر رابطہ و ہم آہنگی کے ذریعے سکیورٹی نظام کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ہر سرحدی ضلع کے لیے ایک جامع 360 ڈگری سیکیورٹی طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ اس مربوط حکمتِ عملی میں مقامی شہریوں، ریاستی حکومت کے نظام اور تمام متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو فعال طور پر شامل کیا جائے گا تاکہ سرحدی انتظام کو زیادہ مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے غیر قانونی تعمیرات خصوصاً بین الاقوامی سرحد کے 0 سے 15 کلومیٹر کے علاقے میں،کے خلاف قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی کے سخت نفاذ پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ایسی تمام غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے سرحدی انتظام کے لیے مربوط حکمتِ عملی کی اہمیت پر زور دیا جس میں بی ایس ایف، مرکزی براہِ راست ٹیکس بورڈ (سی بی ڈی ٹی)، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) اور ریاستی حکومت کا نظام شامل ہو، تاکہ دراندازی، منشیات کی اسمگلنگ، قبضہ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر سرحد پار جرائم پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔مرکزی وزیر داخلہ نے ضلعی مجسٹریٹس کو مزید ذمہ داریاں سونپنے کی ہدایت دی، جن میں بینکوں کی مکمل قانونی اور مالی تعمیل کو یقینی بنانا، بڑے کاروباری اداروں کی جانچ پڑتال، ان کے مالی ذرائع کی چھان بین، مشکوک “مول اکاؤنٹس” اور شیل کمپنیوں کی نگرانی، جعلی آدھار کارڈز کی نشاندہی اور اسمگلنگ کی روک تھام شامل ہے۔مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے ہدایت دی کہ سائبر جرائم کے فوری ازالے کے لیے “1930” کال سینٹر کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے، اور ساتھ ہی تین نئے فوجداری قوانین کا مکمل نفاذ عمل میں لایا جائے تاکہ علاقے میں قانون نافذ کرنے اور عدالتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اجلاس میں “وائبرنٹ ولیج پروگرام-(وی وی پی-II)’’ کے کامیاب نفاذ پر بھی زور دیا گیا تاکہ آخری سطح پر حکمرانی کو بہتر بنایا جا سکے، معاشی جرائم پر قابو پایا جا سکے، بنیادی ڈھانچے کی کمی پوری کی جا سکے اور سرحدی آبادی کو سہارا دیا جا سکے۔ سرحدی دیہات میں تمام سرکاری اسکیموں کی 100 فیصد رسائی کی توثیق کےعزم کا اعادہ کیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومتِ ہند بین الاقوامی سرحدوں پر اعلیٰ ترین سطح کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور اس کے ساتھ مرکزی و ریاستی اداروں کے درمیان قریبی ہم آہنگی کے ذریعے سرحدی علاقوں کی جامع ترقی اور سلامتی کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
