انصاف اور فیصلہ سازی انسانی ذمہ داری ہے، اے آئی کے خطرات کے پیش نظر مضبوط حفاظتی اقدامات موجود ہیں : جسٹس سوریہ کانت
نئی دہلی، 27 اپریل:۔ (ایجنسی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے ہندوستانی عدلیہ میں اے آئی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت انصاف کی کارکردگی بہتر بناتی ہے مگر خطرات کے پیش نظر انسانی نگرانی ضروری ہے۔ جسٹس سوریہ کانت نے ہریانہ کے بھوانی میں چودھری بنسی لال یونیورسٹی کے پانچویں اجلاس سے خطاب کے دوران دیہی علاقوں کی لچک اور انصاف کے نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی انہوں نے عدالتی عمل کو ہموار کرنے میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے انتظامی کاموں اور قانونی تحقیق میں اس کی اہمیت پر تبصرہ کیا، جو بنیادی فرائض میں مداخلت کیے بغیر کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔بعد ازاں چیف جسٹس نے واضح انتباہ دیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی نگرانی کی خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ اس کی جگہ لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’جہاں تک مصنوعی ذہانت کا تعلق ہے، ہم اسے استعمال کرتے ہیں جہاں یہ ہمارے نظام کو فائدہ پہنچاتی ہے، لیکن انصاف اور فیصلہ سازی انسانی ذمہ داری ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بہت سے مثبت پہلو ہیں، تاہم غلط فیصلےجیسے خطرات موجود ہیں، اس لیے احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔‘‘ دریں اثناء انہوں نے خاص طور پر الگورتھم اور غلط نتائج سے خبردار کیا، اور یقین دہانی کرائی کہ مضبوط حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے زیادہ تر دیہی اور زرعی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں کے طلبہ کی کامیابی شہری طلبہ کے مقابلے میں زیادہ محنت طلب ہوتی ہے۔ ان کا واحد راستہ محنت، لگن اور دیانتداری ہے۔عدالتی تاخیر سے نمٹنے میں پیش ر فت پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے مقدمات کے بیک لاگ میں نمایاں کمی کے تعلق سے امید افزاءاعداد و شمار شیئر کیے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ، زیر التوا مقدمات میں تاخیر میں نمایاں کمی آئی ہے، اور مزید بہتری جاری ہے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593199