بھوجپوری، مگہی اور انگیکا کو علاقائی زبانوں کی فہرست سے نکالنے کی وجوہات پر جواب طلب
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 18 مئی: جھارکھنڈ میں JTET امتحان 2026 میں زبان کے تنازع کو حل کرنے کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی وزارتی کمیٹی کی پہلی اہم میٹنگ پیر کے روز وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی اس میٹنگ میں وزیر دپیکا پانڈے سنگھ، سنجے پرساد یادو، سدیوی کمار سونو اور یوگیندر پرساد شامل ہوئے۔ میٹنگ کا بنیادی ایجنڈا اس بات کی تہہ تک پہنچنا تھا کہ سابقہ اصولوں کے برعکس نئی جیٹیٹ مینوئل میں بھوجپوری، مگہی اور انگیکا جیسی زبانوں کو علاقائی زبانوں کی فہرست سے کیوں باہر کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام سے ریاست کی تمام زبانوں، ان کو پڑھنے والے طلبہ اور اساتذہ کی تعداد کی مکمل رپورٹ اگلی میٹنگ سے پہلے پیش کرنے کی سخت ہدایت دی ہے، تاکہ نئے ضوابط کی بنیاد کا پتا لگایا جا سکے۔ کمیٹی کی اگلی اہم میٹنگ جمعہ 22 مئی کو مقرر کی گئی ہے۔ اگر اس تنازع کے پس منظر پر نظر ڈالیں تو یہ مسئلہ اس وقت سنگین ہوا جب موجودہ ہیمنت سورین حکومت کی کابینہ نے JTET 2026 کے لیے نئی پولیٹیکل مینوئل کو منظوری دی۔ اس نئی پالیسی کے تحت پلاموں، گڑھوا، گوڈا، دیوگھر اور دمکا جیسے ایک بڑے خطے میں بولی جانے والی اہم زبانوں (بھوجپوری، مگہی اور انگیکا) کو علاقائی فہرست سے خارج کر دیا گیا، جبکہ یہ زبانیں سال 2016 کے امتحان تک اس فہرست کا حصہ تھیں۔ اس فیصلے پر اتحادی جماعتوں کانگریس اور آر جے ڈی کے وزراء نے شدید ناراضگی ظاہر کی تھی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ نے اس تنازع کا حل نکالنے کے لیے پانچ وزراء پر مشتمل یہ خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ میٹنگ کے بعد وزراء نے صحافیوں کو بتایا کہ پہلی میٹنگ کافی سودمند رہی ہے اور محکموں سے تمام پرانے ریکارڈز اور ترامیم کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں تاکہ زبان کے اس حساس تنازع کا منصفانہ حل نکالا جا سکے۔







Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4595444