سڑک کی بندش اور زمین دھنسنے کے خلاف دکانیں بندرکھیں
جدید بھارت نیوز سروس
دھنباد،25؍اپریل: ضلع کے کیندوا ڈیہہ میں گیس کے اخراج اور دھنباد-بوکارو مین روڈ (NH-32) پر زمین دھنسنے کی وجہ سے گزشتہ 10 دنوں سے سڑک بلاک کیے جانے کے خلاف آج شہر کی مختلف تجارتی تنظیموں نے اپنی دکانیں مکمل طور پر بند رکھیں۔ اس بند کا وسیع اثر کیندوا، پٹکی، لویا آباد اور دھنباد سمیت کئی علاقوں میں دیکھنے کو ملا۔اس دوران چیمبر آف کامرس سے وابستہ درجنوں تاجر کیندوا ڈیہہ میں جاری غیر معینہ مدت کے دھرنے میں شامل ہوئے اور دھنباد کے ایم ایل اے راج سنہا کی حمایت کی۔ بڑی تعداد میں تاجروں اور مقامی لوگوں نے دکانیں بند کر کے دھرنا گاہ پہنچ کر ضلع انتظامیہ اور بی سی سی ایل (BCCL) مینجمنٹ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔دھرنا گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے راج سنہا نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا کر کے بی سی سی ایل اور انتظامیہ کیندوا ڈیہہ کے علاقے کو خالی کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 دن گزرنے کے باوجود NH-32 کی مرمت نہیں کی گئی اور بیریکیڈنگ لگا کر راستہ بند کر دیا گیا ہے، جس سے عام لوگوں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک آمد و رفت بحال نہیں ہوتی اور متاثرہ خاندانوں کی محفوظ منتقلی نہیں کی جاتی، دھرنا جاری رہے گا۔دھنباد چیمبر آف کامرس کے صدر چیتن گوئنکا نے انتظامیہ اور بی سی سی ایل پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مین روڈ بند ہونے سے پورے ضلع کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر جلد حل نہ نکلا تو پورے دھنباد ضلع میں پہیہ جام کیا جائے گا۔ چیمبر کے نمائندے اجے نارائن لال نے بھی کہا کہ کیندوا ڈیہہ کو اجاڑنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور مطالبہ پورا نہ ہونے پر تحریک مزید تیز کی جائے گی۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593005