جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی: ابراہیم عزیزی
امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
تہران، 25 اپریل (یو این آئی) ایرانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سینئر سفارتکار عباس عراقچی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، تاہم امریکہ کے ساتھ براہِ راست کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔اسماعیل بقائی نے ہفتہ کو کہا کہ عراقچی پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔ عراقچی کے استقبال پر پاکستان کے وزیر خارجہ اسحق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر سینئر عہدیدار موجود تھے۔ بقائی نے ایکس پر لکھا کہ یہ مذاکرات ‘ان کی جاری ثالثی اور نیک نیتی پر مبنی کوششوں کے ساتھ مل کر، ہوں گے تاکہ ‘امریکہ کی مسلط کردہ جارحانہ جنگ، کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں استحکام بحال کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایران اور امریکا کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ ایران کے مشاہدات پاکستان کو پہنچا دیے جائیں گے۔، یہ مباحثے اس وقت ہو رہے ہیں جب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔قبل ازیں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ امریکی خصوصی نمائندہ اسٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر ہفتہ کو پاکستان کا سفر کریں گے تاکہ ایرانی نمائندوں سے بات چیت کریں۔ لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ‘میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ خصوصی نمائندہ اسٹیو وِٹکوف اور جارڈ کوشنر کل صبح دوبارہ پاکستان روانہ ہوں گے تاکہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے ایرانی وفد کے نمائندوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کریں۔۔ انہوں نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ میں رہیں گے، اگرچہ وہ ‘اس پورے عمل کا بغور جائزہ لینے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یویٹ نے رپورٹرز سے کہا کہ صدر نے وِٹکوف اور کوشنر کو ‘ایرانیوں کی بات سننے، کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ لیویٹ نے کہ،ہم نے حالیہ چند دنوں میں ایران کی جانب سے کچھ پیش رفت ضرور دیکھی ہے،، ۔ انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ امریکی حکام کو کیا معلومات ملی ہیں۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کو بحال کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت یہ راہ ہموار کر سکتی ہے کہ اسلام آباد میں 11 تا 12 اپریل کو پہلے دور کی براہِ راست بات چیت کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔ یہ بات چیت پاکستان کی طرف سے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کرائے جانے کے بعد ہوئی تھی، جسے بعد ازاں ٹرمپ نے غیر معینہ طور پر بڑھا دیا۔ ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کےدوران جوہری معاملےپرکوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ جوہری معاملہ ایران کی ریڈ لائن میں سے ایک ہے۔ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی پاکستان کے دورے میں صرف دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے۔دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورے میں ایران اور امریکہ کے حکام کے درمیان کوئی میٹنگ طے نہیں ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ میں پبلک ڈپلومیسی سینٹر کے سربراہ اور ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچا ہوں۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4592998