کولہان سمیت کئی اضلاع میں پیٹرول کی راشننگ شروع؛ ایمبولینس اور ضروری خدمات پر دباؤ بڑھ گیا
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 13 مئی:۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ایندھن کی بچت کی اپیل کے بعد جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع میں پیٹرول اور ڈیژل کی قلت نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ افواہوں اور خوف کی وجہ سے لوگوں نے اپنی گاڑیوں کی ٹنکیاں فل کروانا شروع کر دیں، جس کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہو گئی ہے اور کئی اضلاع میں پیٹرول پمپوں پر ‘نو اسٹاک ‘ کے بورڈ لٹک گئے ہیں۔
کولہان کے تینوں اضلاع کی صورتحال
جمشید پور سمیت پورے کولہان خطے میں ایندھن کا بحران سب سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔ کولہان ریجن کے تقریباً 300 پیٹرول پمپوں میں سے 60 سے زائد مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں، جبکہ اکیلے جمشید پور شہر کے 36 میں سے 15 پمپوں پر تیل ختم ہو چکا ہے۔ جمشید پور پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کے مطابق، صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے راشننگ شروع کر دی گئی ہے، جہاں موٹر سائیکل سواروں کو زیادہ سے زیادہ 200 روپے اور کاروں کو 2000 روپے کا پیٹرول دیا جا رہا ہے۔ یہی حال سرائے کیلا-کھرسواں اور مغربی سنگھ بھوم کا ہے، جہاں چائی باسا کے آس پاس کے علاقوں میں بھی سپلائی بری طرح متاثر ہے۔
دھنباد: وزیراعظم کی اپیل کے بعد ذخیرہ اندوزی کی ہوڑ
دھنباد میں ایندھن کی قلت کی بنیادی وجہ وہ خدشات ہیں جو وزیراعظم کی ‘ورک فرام ہوم ‘ اور غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کے بعد پیدا ہوئے۔ لوگوں نے مستقبل میں قلت کے ڈر سے نہ صرف گاڑیوں کی ٹنکیاں بھروانا شروع کیں بلکہ ڈبوں اور کنٹینرز میں بھی پیٹرول جمع کرنا شروع کر دیا۔ پمپ مینیجرز کا کہنا ہے کہ کھپت میں اچانک کئی گنا اضافے کی وجہ سے اسٹاک ختم ہو گیا، جس سے دفتری ملازمین اور اسکولی گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
چترا: صحت خدمات اور ایمبولینس پر بحران کے بادل
ضلع چترا میں صورتحال ‘جنگ جیسی ‘ بن گئی ہے جہاں درجنوں پمپ خشک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو ایمبولینس خدمات کا متاثر ہونا ہے، جہاں ڈرائیوروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی بحال نہ ہوئی تو مریضوں کو ریفر کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ کی خاموشی کے درمیان پمپ مالکان اپنی مرضی سے 100 سے 400 روپے کا پیٹرول دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے طویل فاصلہ طے کرنے والی گاڑیاں راستے میں پھنسنے لگی ہیں۔
لاتہار: زرعی کام اور مسافر نقل و حمل ٹھپ
ضلع لاتہار میں بھی پیٹرول کی قلت نے زندگی کی رفتار سست کر دی ہے۔ م ہوا ڈانڑ کے تین پمپوں پر گزشتہ 24 گھنٹوں میں 36 ہزار لیٹر ایندھن کی غیر معمولی کھپت ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد پمپوں کو باقاعدہ بیری کیڈ لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ ضلع ہیڈ کوارٹر کے بھاروکا پمپ سمیت دیگر مقامات پر صبح سویرے ہی تیل ختم ہو گیا۔ اس بحران کا براہِ راست اثر زراعت، مسافر بسوں اور ایمبولینسوں پر پڑ رہا ہے، جس سے دیہی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سپلائی بحالی کا انتظار
پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ تیل کے ڈپو سے ٹینکروں کی آمد میں تاخیر اور اچانک بڑھی ہوئی مانگ نے اس بحران کو جنم دیا ہے۔ جب تک ڈپو سے باقاعدہ سپلائی شروع نہیں ہوتی، ریاست کے ان بڑے اضلاع میں ایندھن کی ہاہاکار مچی رہنے کا امکان ہے۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594813