واشنگٹن، 12 مارچ (یو این آئی) پینٹاگون نے 168 ایرانی طالبات کے جاں بحق ہونے کی ذمہ داری قبول کرلی اور کہا کہ اسکول پر حملہ غلط انٹیلی جنس معلومات کےباعث ہوا۔امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے تباہ کن میزائل حملے کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ہلاکت خیز واقعہ “غلط انٹیلی جنس معلومات” اور پرانے ڈیٹا پر انحصار کرنے کے باعث پیش آیا۔تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کا اصل ہدف اسکول نہیں بلکہ قریب واقع ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی ایک تنصیب تھی۔
امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی نے حملے کے لیے 2013 کی سیٹلائٹ تصاویر استعمال کیں، جن میں اسکول اور فوجی اڈہ ایک ہی کمپاؤنڈ کا حصہ تھے۔رپورٹ کے مطابق 2016 میں دونوں مقامات کو باڑ لگا کر الگ کر دیا گیا تھا اور اسکول کے لیے علیحدہ راستہ بنایا گیا تھا، تاہم امریکی انٹیلی جنس اس تبدیلی کو نوٹ کرنے میں ناکام رہی۔اسکول پر براہِ راست میزائل لگنے سے 168 بچے (طالبات) اور 14 اساتذہ جاں بحق ہوئے، امریکی میڈیا آؤٹ لیٹس، نیویارک ٹائمز اور سی این این نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسکول مکمل طور پر امریکی میزائل سے تباہ ہوا۔امریکی صدر نے اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس رپورٹ سے آگاہ نہیں ہیں کہ ایران میں اسکول پر ہونے والے اس مہلک حملے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا۔امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ امریکی افواج ہمیشہ شہری ہلاکتوں کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم انہوں نے اس واقعے کو انٹیلی جنس کی ایک سنگین ناکامی قرار دیا۔نیویارک ٹائمز کی جانب سے جاری کردہ ان تفصیلات نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے اس واقعے کو جنگ کے دوران سویلین آبادی کے تحفظ میں بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون نے 168 ایرانی طالبات کے جاں بحق ہونے کی ذمہ داری قبول کرلی
مقالات ذات صلة



