کابل، 31 دسمبر (یو این آئی) افغان جریدہ ہشت صبح کے مطابق سینکڑوں کتب ممنوع قرار دی گئی ہے اور خواتین اور ایرانی مصنفین کی کتب بھی ممنوع فہرست میں شامل ہیں۔افغانستان اینالسٹ نیٹورک کے مطابق طالبان نے یونیورسٹی کی 670 سے زائد نصابی اور سینکڑوں عوامی کتب پر پابندی لگا دی۔دوسری جانب یونیسیف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 60 فیصد لڑکیوں سمیت 21 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی 2.2 ملین نوجوان خواتین ثانوی تعلیم سے محروم رہیں۔
افغان طالبان نے اہم تاریخی اور سیاسی کتب پر پابندی لگا دی
مقالات ذات صلة








Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594505