غزہ، 20 اپریل (یو این آئی) الجزیرہ ٹی وی کے ایک حالیہ سیٹلائٹ تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی اڈوں اور انفرااسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر توسیع شروع کر دی ہے۔الجزیرہ ٹی وی کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں نئے فوجی اڈے، چوکیاں اور سڑکوں کا جال بچھا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق غزہ میں کم از کم 13 نئی فوجی آؤٹ پوسٹس (چوکیوں) کی نشاندہی کی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان تعمیرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ میں طویل المدتی موجودگی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے نہ صرف نئے اڈے قائم کیے ہیں بلکہ موجودہ فوجی تنصیبات کو بھی پہلے سے زیادہ مضبوط اور وسیع کر لیا ہے۔سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق خان یونس اور سرحدی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں فلسطینیوں کی رہائشی عمارتوں کو مسمار کر کے وہاں فوجی تنصیبات قائم کی جا رہی ہیں۔ حیران کن طور پر، جنگ بندی کے بعد بھی ان تعمیراتی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ کام تیزی سے جاری رہا۔ماہرین نے اسرائیلی اقدامات کو “زمینی حقائق بدلنے کی حکمت عملی” قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی توسیع کے نام پر فلسطینی املاک کی بڑے پیمانے پر تباہی جاری ہے اور غزہ کے جغرافیے کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں فلسطینیوں کی واپسی یا آزادانہ نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی تنصیبات میں توسیع کا انکشاف، سیٹلائٹ تصاویر منظرِ عام پر
مقالات ذات صلة



