بغداد،10مئی (ہ س)۔امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے عراقی صحراء کے اندر ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا، جس کا مقصد ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں میں مدد فراہم کرنا تھا۔رپورٹ کے مطابق یہ اڈہ جنگ شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل اور امریکی علم میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اسے اسپیشل فورسز کی رہائش اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کیا گیا۔مزید بتایا گیا کہ جنگ کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں نے ان عراقی فورسز کو بھی نشانہ بنایا، جو اس خفیہ اڈے کا سراغ لگانے کے قریب پہنچ گئی تھیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے اس اڈے پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں تعینات کی تھیں تاکہ کسی اسرائیلی پائلٹ کے مار گرائے جانے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے، تاہم ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ایک امریکی اہلکار کے مطابق جب ایران کے شہر اصفہان کے قریب ایک امریکی ایف-15 طیارہ گر کر تباہ ہوا، تو اسرائیل نے مدد کی پیشکش کی، لیکن ریسکیو آپریشن امریکی فورسز نے خود انجام دیا۔ایک عراقی چرواہے نے اس معاملے کا انکشاف کیا۔رپورٹ کے مطابق مارچ کے آغاز میں چرواہے نے علاقے میں غیر معمولی فوجی نقل و حرکت دیکھی اور اس کی اطلاع دی، جس کے بعد عراقی فوج نے موقع کی تصدیق کے لیے کارروائی کی، تاہم فضائی حملوں کے باعث وہ قریبی علاقے تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکی۔بعد ازاں عراقی حکام نے انسدادِ دہشت گردی کی دو اضافی یونٹس بھی علاقے میں بھیجیں، جنہوں نے تلاشی کے دوران اس مقام پر فوجی موجودگی کے شواہد حاصل کیے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ بعض اوقات فوجی کارروائیوں سے قبل عارضی تنصیبات قائم کرتا ہے اور اسی طرز کی ایک تنصیب ایران میں بھی بنائی گئی تھی تاکہ اپریل کے آغاز میں امریکی پائلٹس کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔مزید کہا گیا کہ انخلا کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد امریکہ نے ان طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو تباہ کر دیا جو اڈے سے نکالے نہیں جا سکے تھے۔
عراق کے صحراء میں اسرائیل نے راتوں رات قائم کردیا خفیہ فوجی اڈہ
مقالات ذات صلة








Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594477