ایٹمی پروگرام ہمارا قومی حق ہے، ٹرمپ کے پاس اسے روکنے کا کوئی قانونی جواز نہیں: ایران
تہران، 19 اپریل ( یو این آئی) ایران نے افزودہ یورینیم کی امریکہ منتقلی سے صاف انکار کر دیا ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ افزودہ یورینیم کی منتقلی کا معاملہ زیر بحث ہی نہیں۔سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان متعدد پیغامات کا تبادلہ ہوا، امریکہ کے مطالبات غیر ضروری اور حد سے زیادہ ہیں، ایران امریکا کو افزودہ یورینیم نہیں بھیجے گا۔انھوں نے مزید کہا امریکہ کے ساتھ بات چیت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دونوں فریق ایک مشترکہ فریم ورک پر متفق نہ ہو جائیں، مزید مذاکرات کی کوئی تاریخ اس وقت تک طے نہیں کی جائے گی جب تک ایک مشترکہ فریم ورک پر اتفاق نہ ہو جائے۔قبل ازیں، ایران نے جمعہ کے روز ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بیرونِ ملک نہیں بھیجے گا اور اس طرح صدر ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی کہ تہران اس حوالے سے رضامند ہو گیا ہے۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا کے مطابق کہا کہ یہ مواد ’’کہیں بھی‘‘ منتقل نہیں کیا جائے گا، جس سے ایران کے اپنے جوہری اثاثوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے دیرینہ مؤقف کی توثیق ہوتی ہے۔بقائی نے کہا ’’جس طرح ایران کی سرزمین ہمارے لیے اہم اور مقدس ہے، اسی طرح افزودہ یورینیم بھی ہےاور مزید کہا کہ اسے امریکا بھیجنا ’’کبھی بھی زیرِ غور آپشن نہیں تھا۔‘‘انھوں نے افزودگی کو مستقل طور پر روکنے سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک میڈیا مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد مذاکرات کاروں پر اثر انداز ہونا اور بات چیت کے رخ کو متاثر کرنا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی حق سے محروم کرنےکا صدر ٹرمپ کے پاس کوئی جواز نہیں،ہمارا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہے۔ایک بیان میں صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ہم کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم اپنے دفاع کا قانونی اور جائز حق استعمال کر رہے ہیں، ہمارا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہے، ہم جنگ بڑھانا نہیں چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم عزت کے ساتھ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم نے جنگیں یا تنازعات شروع نہیں کیے، ہم کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم اپنے دفاع کا قانونی اور جائز حق استعمال کر رہے ہیں۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ٹرمپ کو کوئی حق نہیں کہ وہ عوام کو اس کے حقوق سے روکے، ٹرمپ کو حق نہیں کہ وہ کہے ایران اپنے جوہری حقوق سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔انہوں نے کہا کہ دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، دشمن نے انفراسٹرکچر، سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے کیے، ایرانی تہذیب تباہ کرنے، اسے پتھرکے دور میں بھیجنے کے بیانات دشمن کے عزائم ظاہر کرتے ہیں۔علاوہ ازیں ایرانی وفد کے سر براہ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے ناکہ بندی کا اعلان کیا جو ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے، دوسرے ممالک آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں مگر ہم نہیں؟ یہ ناممکن ہے۔



