ہومNationalعدالتوں میں زیر التوا معاملات کو نمٹانے کے لیے ٹیکنالوجی کو احتیاط...

عدالتوں میں زیر التوا معاملات کو نمٹانے کے لیے ٹیکنالوجی کو احتیاط کے ساتھ اپنانے کا مشورہ

نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) عدالتی شعبے پر راجدھانی میں ہفتہ کو منعقدہ ایک کانفرنس میں ماہرین نے ہندوستان میں زیر التوا معاملات کے بڑے بوجھ سے نمٹنے، قانونی تعلیم میں اصلاح کرنے اور انصاف کو مزید قابل رسائی اور سستا بنانے کے لیے ثالثی، ٹیکنالوجی اور احتیاط کے ساتھ مصنوعی ذہانت کو موثر ذریعہ بتایا۔ سِلف (سوسائٹی آف انڈین لاء فرمز) نے ایس ایل پی (سوسائٹی آف لیگل پروفیشنلز) کے تعاون سے “لیگل کنکلیو اینڈ ایوارڈز 2026” کا انعقاد کیا جو “سب کے لیے سستا اور قابل رسائی انصاف” پر مرکوز تھا۔نظام انصاف کو مضبوط بنانے کے لیے تعمیری تنقید اور صحت مند بحث کی ضرورت کی اہمیت پر مہمان خصوصی اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس منموہن نے کہا کہ جب نظام کی خامیوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، تو اس کا مقصد اصلاح کرنا ہوتا ہے، نہ کہ مذمت کرنا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے مسائل پر صحت مند بحث کو فروغ دینے کو سب سے اہم بتایا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کو دو دھاری تلوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال اسے یہ نعمت یا لعنت میں بدل سکتا ہے، اس لیے اسے صرف ایک مددگار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔زیر التوا معاملات کے معاملے کی نشاندہی کرتے ہوئے جسٹس منموہن نے مشورہ دیا کہ قانونی برادری کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ثالثی (آربٹریشن) کا نظام، جسے کبھی حل مانا گیا تھا، اب خود مسئلہ بن گیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ازدواجی معاملات میں ثالثی کی نمایاں کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے اس کے بے پناہ امکانات پر زور دیا۔پروگرام میں سینئر ایڈووکیٹ اور حکومت کے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل چیتن شرما نے کہا کہ ثالثی اور ٹیکنالوجی انصاف کی فراہمی کے نظام کو بدلنے کی کلید ہیں۔ مسٹر شرما نے کہا کہ فیملی کورٹس کو عدالت نہیں بلکہ فیملی سینٹر ہونا چاہیے۔ عدالتوں کو اسپتالوں کی طرح ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چھ کروڑ سے زیادہ زیر التوا معاملات کو دیکھتے ہوئے، ثالثی اور ٹیکنالوجی مل کر لاکھوں معاملات کا جلد حل نکال سکتی ہیں، جس سے ایک پرامن معاشرے کی تعمیر ہوگی، جو ترقی کے لیے ضروری ہے۔مسٹر شرما نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور اے آئی کا استعمال کر کے زیر التوا معاملات کے بوجھ کو کم کرنا ’وکست بھارت‘ کے وژن میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ دستاویزی کاموں میں ڈیٹا کا استعمال کیا جائے، لیکن جہاں انسانی ذہانت کی ضرورت ہو، وہاں اے آئی کو محدود رکھا جائے۔ سوسائٹی آف انڈین لاء فرمز کے صدر ڈاکٹر للت بھسین نے قانونی تعلیم کے موضوع میں گہری خود احتسابی کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ اسے موجودہ تکنیکی ترقی کے مطابق بنایا جا سکے اور اس کے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات